عالمی سطح پر بن جانیوالے موجودہ حالات کا نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کو کیا زبردست فائدہ پہنچنے والا ہے ؟ ایک دنگ کر ڈالنے والا سیاسی تبصرہ

عالمی سطح پر بن جانیوالے موجودہ حالات کا نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کو کیا زبردست فائدہ پہنچنے والا ہے ؟ ایک دنگ کر ڈالنے والا سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا فضل الرحمن اصولی طور پہ سیاسی اصلاحات کے حامی اور مسلہ کشمیر کے پُرامن حل کے بہترین وکیل رہے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے مملکت کی سلامتی بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے مستقبل سے جڑے کشمیر جیسے اہم ایشوز کے حوالے سے ہونے والی

مبینہ پیش رفت سے عوام کو بے خبر رکھنے کے علاوہ قومی قیادت کو لاتعلق کرنے کا جو وتیرہ اپنایا وہ پسندیدہ عمل نہیں تھا۔ نامور کالم نگار اسلم اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا فضل الرحمن کو دراصل اسی رویہ سے شدید اختلاف رہا ہے۔ بلاشبہ قومی ایشوز پہ ملکی قیادت کو اعتماد میں لے کر اجتماعی دانش کو بروئے کار لانے سے گریز کی روش نے ہی حکمرانوں کو تنافر کا نمائندہ بنا دیا ہے۔ اگر وہ روایتی میل جول کے ذریعے سیاستدانوں کو انگیج رکھتے تو انہیں اپنے نصب العین کے حصول میں سہولت ملتی لیکن اسی جنونِ استرداد نے انہیں بتدریج تنہا کر دیا ہے۔ اس پوری سیاسی جدلیات میں پی پی پی کی سوچ کچھ ایسی حقیقت پسندانہ واقع ہوئی جو پوری طرح اپنے مفادات کے محور میں گھومتی دکھائی دی۔ بلاشبہ،موجودہ سیاسی بندوبست کی سب سے بڑی بینی فشری ہونے کے ناتے پیپلزپارٹی ہمیشہ سسٹم کو بچانے کی تگ و دو میں سرگرداں رہی،اس لئے جب بھی اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش شروع کی پیپلزپارٹی نے آگے بڑھ کر اپنے مخصوص طریقہ کار کے تحت اس کی رخ گردانی کو فرض عین سمجھا۔میری نظر میں اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ آصف علی زرداری نے اب محض عوامی طاقت کے وسیلے اقتدار تک رسائی کی راہ ترک کر کے طاقت کے مراکز کے ساتھ براہ راست لین دین کے ذریعے ایوانِ اقتدار تک پہنچنے کی پالیسی اختیارکرکے اپنی رہی سہی پارلیمانی قوت کو بچانے کے علاوہ پارٹی قیادت پہ گرفت مضبوط کر لی ہے،

دوسرا، وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلم لیگ نواز ہی اس کی اصل حریف ہے جو عالمی اور مقامی مقتدرہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے ایوانِ اقتدار تک رسائی پانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے اس لئے انہوں نے ہمیشہ نواز لیگ کو مقتدرہ کے خلاف صف آرا رکھنے کی خفیہ و اعلانیہ سکیم میں ہی اپنا مفاد تلاش کیا۔ 2018ء کے انتخابات کی طرح اس وقت بھی سابق صدر زرداری کی خواہش یہی تھی کہ نواز لیگ کا مقتدرہ کے ساتھ ٹکرائو کرا کے بلاول بھٹو کے لئے وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار بنائی جائے لیکن اس ضمن میں شہباز شریف ان سے زیادہ چالاک ثابت ہوئے۔ چھوٹے میاں صاحب نے بلاول بھٹوکی جانب سے دی جانے والی تمام ترغیبات کے باوجود مقتدرہ کے ساتھ تصادم سے گریز کی راہ اپنا کر بالآخر اپنی جماعت کے لئے تیسری بار مسند ِاقتدار تک پہنچنے کی راہ ہموار کر لی۔ حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ نواز لیگ نے بائیں بازو کی عالمی مقتدرہ کی وساطت سے مقامی سطح پر اپنی تلخیاں کم کرکے بند گلی سے نکلنے کی راہ ڈھونڈ لی ہے ،شاید اسی لئے مرکزی دھارے کے میڈیا میں مریم نواز کی پُرموشن کی راہیں کشادہ ہونے لگی ہیں اور سویلین بالادستی کی عَلم بردار مریم بی بی نے بھی پوزیشن تبدیل کر کے اپنی تنقید کا روئے سخن صرف پی ٹی آئی گورنمنٹ کی طرف پھیر لیا ہے۔بظاہر یہی لگتا ہے کہ عالمی سطح پہ ابھرنے والی وسیع پیراڈائم شفٹ کا سب سے زیادہ فائدہ نواز لیگ اور اس کے بعد جے یو آئی(ف) کو پہنچے گا۔حتیٰ کہ سیاسی تغیرات کی یہ نئی لہر مولانا فضل الرحمن کی اس ابتدائی جدوجہد کو بھی کارآمد بنا دے گی جسے ہم رائیگاں تصور کرتے ہیں؛ تاہم مریم نواز کی تازہ اینٹری نے تحریک انصاف سے زیادہ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ کی پریشانیاں بڑھا دی ہیں۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ سیاست کی نئی مہمات میں پیپلزپارٹی کا کردار مزید محدود ہوتا جائے گا اور شاید سندھ میں بھی جے یو آئی سمیت کئی نئی سیاسی طاقتیں اس کے سامنے سر اٹھا لیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں