اسرائیل سے گہرے مراسم۔۔!!

اسرائیل سے گہرے مراسم۔۔

انقرہ (ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق یواے ای کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد پاکستان ،سعودی عرب، ترکی نے اپنا رد عمل دیا ہے۔ ترکی نے سب سے پہلے اپنا رد عمل دیا لیکن ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات عرصے سے قائم ہیں، طیب اردگان ایک طرف دنیا کے سامنے اسرائیل

کے حوالہ سے سخت موقف رکھتے ہیں دوسری جانب اسرائیل کے ساتھ انکے گہرے مراسم بھی ہیں، رجب طیب اردگان اسرائیل کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور اسرائیلی حکام بھی نہ صرف ترکی کا دورہ کر چکے ہیں بلکہ ترک پارلیمنٹ سے بھی خطاب کر چکے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی یو اے ای اسرائیل معاہدے پر رد عمل دیا بعد ازاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اس سے اگلے روز سعودی وزیر خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ سعودی عرب یو اے ای کی طرح اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا۔ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ تجارت ہے، دیگر اسلامی ممالک کی اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط سامنے آئے ہیں،اس حوالہ سے اہم رپورٹ سامنے آئی ہے،سعودی عرب جس نے گزشتہ روز اسرائیل کے خلاف سخت موقف دیا ہے، اسکے اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط ہیں، باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط آج کے نہیں بلکہ کافی پرانے ہیں، سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین سال 2013 میں 0.78 ملین کی ایکسپورٹ جبکہ 0.1 ملین ڈالر کی امپورٹ ہوئی تھی، اب یہ تجارتی تعلقات مزید بڑھ چکے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف دنیا کے سامنے سخت موقف رکھنے والے رجب طیب اردگان کے ملک ترکی کے بھی اسرائیل کے ساتھ گہرے تجارتی روابط ہیں،ترکی اسرائیل کے مابین سال 2018 میں 4.0 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ اور 2.0 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی ہے،ازبکستان ،اسرائیل کے مابین سال 2018 میں 4.4 ملین کی ایکسپورٹ اور 33.7 ملین کی امپورٹ ہوئی ہے،ملائشییا کے بھی اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط ہیں ،اور کافی پرانے ہیں، سال 2011 میں ملائشیا اسرائیل کے مابین 90.4 ملین کی امپورٹ ہوئی تھی۔ عمان کے بھی اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں،عمان اور اسرائیل کے مابین سال 2011 میں 2 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی جبکہ سال 2012 میں 25 ہزار ڈالر کی امپورٹ ہوئی ،قطر اسرائیل کے مابین سال 2013 میں 0.35 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ اور 2015 میں 29 ہزار ڈالر کی امپورٹ ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں