شمالی کوریا کی اگلی سپریم لیڈر کم جونگ کی بہن کم یوجونگ کی ذاتی زندگی کے حوالے سے چند دنگ کر ڈالنے والے حقائق

شمالی کوریا کی اگلی سپریم لیڈر کم جونگ کی بہن کم یوجونگ کی ذاتی زندگی کے حوالے سے چند دنگ کر ڈالنے والے حقائق

سیول (ویب ڈیسک) پچھلے کچھ برسوں میں پیانگ یانگ کے اقتدار کی دھندلی رہداریوں میں شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ اہم شخصیت بن کر ابھری ہیں۔وہ سپریم لیڈر کِم جونگ اُن کی سگی اور چھوٹی بہن ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ بہن بھائیوں میں وہی ان کی

سب سے قریبی اور طاقتور اتحادی ہیں۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ ان نے اپنے معاونین کو جن میں ان کی بہن کم یو جونگ شامل ہیں، مزید حکومتی ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔جنوبی کوریا کی خیفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ صدر کم مطلق العنان حکمران ہیں اور ملک کا مکمل اختیار ان کے ہاتھ میں ہے لیکن انہوں نے چند پالیسی ساز شعبوں کی ذمہ داریاں دیگر حکام کو تفویض کر دی ہیں تاکہ ان پر کام اور ذہنی دباؤ کم ہو سکے۔جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس نے مزید کہا کہ ’کم یو جونگ اب ریاست کے امور چلا رہی ہیں۔‘لیکن یاد رہے کہ جنوبی کوریا کی ایجنسی ماضی میں شمالی کوریا کے بارے میں غلط ثابت ہو چکی ہے۔جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کے جمعرات کو ایک بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں یہ معلومات پیش کی گئیں۔ اسمبلی ارکان نے بعد ازاں یہ معلومات صحافیوں کو بھی فراہم کیں۔ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا کہ کم جونگ ان نے اب بھی مکمل اختیار اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے لیکن وہ بتدریج اس میں دوسروں کو بھی شریک کر رہے ہیں۔ایجنسی نے مزید کہا کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے بارے میں شمالی کوریا کی پالیسی اب کم یو جونگ کے ہاتھ میں ہے اور وہ عملی طور پر شمالی کوریا میں کم جونگ ان کے بعد دوسری سب سے طاقت ور شخصیت ہیں لیکن اب تک کم جونگ ان نے کسی کو

اپنا جانشین نامزد نہیں کیا ہے۔جنوبی کوریا کی ایجنسی کے خیال میں کم جونگ ان نے یہ ذمہ داریاں دوسروں کو سونپ کر ایک طرف تو اپنے اوپر کام کے بوجھ کو کم کیا ہے تو دوسری طرف انہوں نے کسی ممکنہ ناکامی کی صورت میں خود پر الزام آنے کا سدباب بھی کر لیا ہے۔دنیا بھر میں شمالی کوریا کے معاشرے میں سب سے زیادہ رازداری برتی جاتی ہے۔جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس کے پاس شاید دوسرے اداروں کے مقابلے میں شمالی کوریا کے بارے میں زیادہ معلومات ہوں لیکن ماضی میں اس کا ریکارڈ ملا جلا رہا ہے۔اپنے بھائی کِم جونگ اُن سے قریبی تعلق کی وجہ سے کِم یو جونگ اپریل 2020 میں ایک بار پھر خبروں میں آئیں جب ان کے بھائی کئی ماہ کے لیے منظر عام سے غائب ہو گئے اور ایسی افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ دل کے عارضے کی وجہ سے انتقال گئے ہیں اور کِم یو جونگ کو شمالی کوریا کے نئے رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگا۔کِم یو جونگ کی اہمیت میں 2017 میں اضافہ ہوا جب انھیں پولٹ بیورو کا ممبر بنایا گیا۔ وہ اس سے پہلے بھی بااثر تھیں اور اپنے بھائی کے پراپیگنڈہ اور ایجٹیشن ڈیپارٹمنٹ کے شعبے کی ڈپٹی ڈائریکٹر تھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب بھی اس شعبے سے منسلک ہیں اور اپنے بھائی کی ساکھ کو بہتر بنانے پر معمور ہیں۔اگر کِم جونگ اُن کا جانشین ڈھونڈنے کا وقت آیا تو اس میں خاندانی تعلق کی بہت اہمیت ہوگی۔ ملک کی پراپیگنڈہ مشینری نے

عشروں سے کِم خاندان کے شجرہ نسب کے حوالے سے ایک کہانی گھڑ رکھی ہے جس کے مطابق کِم خاندان کا تعلق ’ماؤنٹ پیکٹو بلڈ لائن‘ سے ہے جن کا ہمیشہ شمالی کوریا کی سیاست میں اہم کردار رہا ہے۔کِم یو جونگ بھی اسی نام نہاد ‘ماؤنٹ پیکٹو بلڈ لائن’ کی رکن ہیں جسے کِم اُل سونگ کی براہ راست نسل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کِم جونگ اُن کی اولاد ہے لیکن ان کی عمریں ابھی بہت کم ہیں۔چونکہ کِم یو جونگ کی بلڈ لائن بھی وہی ہے جو کِم جونگ اُن کی ہے، تو مقامی میڈیا کو کِم خاندان کے کسی ممبر کو اقتدار کی منتقلی کا جواز پیش کرنے میں دشواری نہیں ہو گی۔لیکن اس شجرہ نصب کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اگر وہ سپریم رہنما نہیں چنی جاتی ہیں، تو پھر ان کی جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔کِم یو جونگ 1987 میں پیدا ہوئیں اور موجودہ سپریم لیڈر کِم جونگ اُن سے چار برس چھوٹی ہیں۔ انھوں نے بھی اپنے بھائی کی طرح سوئٹزرلینڈ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ دونوں بہن بھائی ایک وقت میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن میں قیام پذیر رہے ہیں۔سوئٹزرلینڈ میں سکول کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ان کے نگران ان کا ضرورت سے زیادہ خیال رکھتے تھے اور ایک بار جب انھیں ہلکا سا زکام ہوا تو وہ انھیں فوراً سکول سے نکال کر ہسپتال لے گئے تھے۔اطلاعات کے مطابق کِم یو جونگ نے بہت ہی الگ تھلگ ماحول میں پرورش پائی ہے

اور ان کا کِم خاندان کے افراد سے بھی زیادہ میل جول نہیں رہا ہے۔کِم یو جونگ 2014 سے اپنے بھائی کی شہرت کی محافظ ہیں اور انھیں پارٹی کے پراپیگنڈہ ڈیپارٹمنٹ میں اہم حیثیت حاصل ہے۔ جب انھیں 2017 میں پولٹ بیورو میں ترقی دی گئی تو اس سے یہ تاثر ملا کہ وہ پیانگ یانگ کی اقتدار کی راہدریوں میں اہمیت اختیار کر رہی ہیں حالانکہ ان کا عہدہ اب بھی وہی ہے جو پولٹ بیورو کا ممبر بننے سے پہلے تھے۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کِم جونگ اُن کے عوام کے سامنے آنے کے حوالے سے تمام امور کی ذمہ دار ہیں اور وہ اپنے بھائی کی سیاسی مشیر کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں۔جب 2019 میں امریکی صدر ٹرمپ اور کِم جونگ اُن کی ملاقات بے نتیجہ رہی تو یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کِم یو جونگ کو پولٹ بیورو سے ہٹا دیا گیا ہے لیکن 2020 کے اوئل میں انھیں دوبارہ پولٹ بیورو کا ممبر بنا دیا گیا۔کم یو جونگ 2014 سے پہلے کبھی کبھار ہی منظر عام پر آئی ہیں۔ پہلی بار انھیں 2011 میں اپنے والد کے جنازے میں دیکھا گیا تھا اور پھر 2014 میں بھائی کے اقتدار پر فائز ہونے کے وقت انھیں دیکھا گیا۔کِم یو جونگ کبھی کبھار ریاستی میڈیا پر اپنے بھائی کے ہمراہ دیکھی گئی ہیں۔جب 2008 میں کِم یو جونگ کے والد کِم جونگ اِل کی طبعیت بگڑ رہی تھی تب ان کا شمار خاندان کے ان افراد میں کیا جاتا تھا جو والد کی جگہ لے سکتے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں