پاکستان کی معیشت اور حفاظت اب ہمارا ذمہ : شاہ محمود قریشی کے دورے کے بعد چین کا دبنگ اعلان ۔۔۔۔۔۔ کیا ہونیوالا ہے ؟ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والے سکتے میں آگئے

پاکستان کی معیشت اور حفاظت اب ہمارا ذمہ : شاہ محمود قریشی کے دورے کے بعد چین کا دبنگ اعلان ۔۔۔۔۔۔ کیا ہونیوالا ہے ؟ پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے والے سکتے میں آگئے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 20 اگست کو دو روزہ دورے پر چین کے لیے روانہ ہوئے تو ایک بار پھر تمام نظریں اس دورے پر مرکوز ہوتی نظر آئیں۔یہ دورہ کتنا اہم ہے اور اس کا ایجنڈا کیا تھا اس پر بحث سے پہلے اس دورے کے

روح رواں شاہ محمود قریشی کی زبانی جانتے ہیں کہ وہ اس دورے کے بارے میں ذہن میں کیا لے کر گئے تھے۔نامور صحافی اعظم خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شاہ محمود قریشی کچھ عرصہ قبل ایک مقامی نجی ٹیلی ویژن پر سعودی عرب اور او آئی سی سے متعلق اپنے بیان کی وجہ سے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے وفد سمیت چین کے وزیر خاجہ وانگ یی سے مذاکرات کیے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں کورونا وائرس، باہمی تعلقات اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور زیر بحث آئے۔دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے دوسرے مرحلے کے سٹریٹجگ ڈائیلاگ کا حصہ تھا۔خیال رہے کہ ان مذاکرات کے سلسلے میں پہلا اجلاس مارچ میں منعقد ہوا تھا۔پاکستانی حکام نے اس دورے سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق دونوں ممالک بہت سے امور پر ایک ہی موقف رکھتے ہیں اور اس لحاظ سے دونوں ممالک کا مستقبل بھی ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جمعے کی شام کو ایک تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس پریس ریلیز میں مزید تفصیلات کے ساتھ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے تعاون کا ذکر کیا۔اس اعلامیے کے مطابق چین کے صوبے ہینان میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں اطراف نے کورونا وائرس وبا، دو طرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے معاملات،

عالمی اور خطے کے امور پر بحث کی اور اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات پر اتفاق رائے بھی ہوا۔ ’دونوں ممالک خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے خواہاں ہیں۔‘مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو خطے اور عالمی سطح پر امن کی علامت قرار دیا ہے۔جہاں دونوں ممالک نے اہم امور پر اتفاق رائے کو جلد عملی شکل دینے کا اعادہ کیا وہیں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھانے اور راہداری کے منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ پر کام تیز کرنے پر بھی زور دیا۔اگر دونوں ممالک کی طرف سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چین نے پاکستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو آزادی کے ساتھ اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی حالات میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ترقی کی منزل پر آگے بڑھ سکتا ہے۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ جاری کردہ اعلامیہ میں کسی اور ملک کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی امور پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان فورمز میں اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور آسیان ریجنل فورم (ASEAN) شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے اس تعاون کو مزید گہرا کرنے پر بھی اتفاق کیا۔سی پیک سے متعلق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اب دونوں ممالک

اس منصوبے پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں اعلیٰ درجے کی ترقی ممکن بنائی جا سکے گی۔دونوں ممالک نے سی پیک منصوبوں کی تعیمرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا اور کہا ہے کہ زیر تعمیر منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان منصوبوں کا مقصد معاشی اور سماجی ترقی ہو گا۔ ان کے ذریعے نئی ملازمتوں کے مواقع اور عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مخصوص اکنامک زونز میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا، جس میں صنعتوں کا قیام، سائنس اور ٹیکنالوجی، میڈیکل، ہیلتھ، ہیومن ریسورسز ٹریننگ، غربت میں کمی اور زراعت کے شعبے شامل ہیں۔سی پیک کو خطے کی سرگرمیوں کا مرکز بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں توانائی کے شعبے میں ہونے والے معاہدات پر اطمینان کا اظہار کیا اور سی پیک کی ترویج پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق سی پیک پر مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ مقاصد حاصل کر سکیں۔ دونوں ممالک نے عالمی برادری کو بھی اس منصوبے کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان نے سی پیک منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے افواج پاکستان کے میڈیا ونگ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی سربراہی میں سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا ہے اور اس اتھارٹی میں چین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔اس دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مستحکم، خوشحال اور باہمی

تعاون والا جنوبی ایشیا سب فریقین کے مفاد میں ہے۔اس اعلامیے میں لداخ اور کشمیر کا ذکر کیے بغیر کہا گیا ہے کہ خطے کے تمام فریقین کو باہمی تکریم اور برابری کے اصول پر تمام امور اور تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کی ضرورت ہے۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر چینی حکام کو تفصیلی بریفنگ دی، جس کے جواب میں چین نے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دونوں ممالک کے باہمی معاہدات کی روشنی میں درست انداز میں کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل پر زور دیا۔چین کے مطابق کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک تاریخی تنازع ہے اور یہ ایک واضح حقیقت ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی ایسے یک طرفہ کارروائی کی مخالفت کرتا ہے جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو جائے۔خیال رہے کہ انڈیا نے گذشتہ سال پانچ اگست کو اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں انڈیا نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کیا گیا تھا۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے چین کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور چین کو اپنی پوری حمایت کا یقین دلایا۔ خاص طور پر پاکستان نے چین کو تائیوان، سنکیانگ، تبت اور ہانگ کانگ پر بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔پاکستان اور چین کے اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے افغان امن عمل پر بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے اور بین الافغان مذاکرات کو یقینی بنانے کے لیے افغان حکومت اور طالبان کی کوششوں کی تعریف کی۔ چین نے اس سلسلے میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہا۔چین نے کورونا وائرس کے خلاف بھی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے اس وبا سے متعلق درست اور بروقت معلومات کا تبادلہ کیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس وبا کے خلاف عالمی سطح پر تعاون موثر ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس وبا کو سیاسی رنگ دینے کی مخالفت کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں