وزیر اعظم بالکل غلط کر رہے ہیں جس ملک میں جمائما عمران خان کے بچے بھجوانے کے لیے تیار نہیں وہاں میاں منشاء ، طارق سہگل اور حسین داؤد اپنے بچے کیوں رکھیں گے ۔۔۔۔۔جاوید چوہدری کا وزیراعظم عمران خان کو ایک انمول مشورہ

وزیر اعظم بالکل غلط کر رہے ہیں جس ملک میں جمائما عمران خان کے بچے بھجوانے کے لیے تیار نہیں وہاں میاں منشاء ، طارق سہگل اور حسین داؤد اپنے بچے کیوں رکھیں گے ۔۔۔۔۔جاوید چوہدری کا وزیراعظم عمران خان کو ایک انمول مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) ہم آج دنیا کو دوحصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں‘ ایک وہ دنیا جس میں ہرشخص کا روزگار‘ ترقی کے مواقع اور زمین جائیداد بائبل کی طرح محفوظ ہیں اور دوسرے وہ ملک جن میں لوگوں کے مال کے ساتھ عزت اور عزت نفس بھی غیرمحفوظ ہے‘ آپ کو پہلے ملک ترقی یافتہ اور

دوسرے تنزلی کے پاتال میں لڑھکتے نظر آئیں گے‘فرق ’’مال کا تحفظ‘‘ ہے‘نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دنیا میں اس وقت دو ہزار چھ سو چار کھرب پتی ہیں‘ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے ان میں سے ایک بھی شخص کسی نیب کی حراست میں نہیں‘ دنیا میں لوگ روز دیوالیہ ہوتے ہیں لیکن یہ صرف لوگ ہوتے ہیں ادارے نہیں۔ریاست اداروں‘ فیکٹریوں اور کمپنیوں کو بند نہیں ہونے دیتی‘دنیا کس قدر بزنس فرینڈلی ہے آپ اس کا اندازہ صرف ایک مثال سے لگا لیجیے‘ آپ کے پاس اگر ایک ملین ڈالر ہیں تو آپ خواہ دنیا کے کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں آپ خاندان سمیت دنیاکے کسی بھی ملک کی شہریت لے سکتے ہیں‘ امریکا‘ کینیڈا اور یورپ سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ملک آپ کو پاسپورٹ دے دیں گے‘ کیوں؟کیوں کہ آپ کمانے کا ہنر جانتے ہیں اور پوری دنیا کو کمانے والے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جب کہ پاکستان کے تمام ارب پتی نیب کو مطلوب ہیں اور ان کے خاندان اس وقت ملک سے باہر بیٹھے ہیں‘ ان سب کی جیبوں میں غیر ملکی پاسپورٹ بھی ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ جانتے ہیں اس ملک میں ان کا مال‘ جائیداد اور کاروبار محفوظ نہیں ہے چنانچہ یہ فاختائوں کی طرح اپنے انڈے محفوظ ملکوں میں رکھ رہے ہیں‘ دنیا میں ارب پتی بڑھ رہے ہیں جب کہ یہاں کم ہو رہے ہیں‘کیوں؟ خوف! آپ خوف کا عالم دیکھیے ہمارے وزراء اور مشیروں کی جیبوں میں بھی غیرملکی پاسپورٹ ہیں اور ان کے خاندان بھی دوسرے ملکوں میں ہیں۔آپ ججوں‘ جرنیلوں‘ سیکریٹریوں‘ بزنس مینوں‘ جاگیرداروں حتیٰ کہ ایکٹروں تک کے خاندانوں کاڈیٹا نکال کر دیکھ لیجیے آپ کو ننانوے فیصد بااثر لوگوں کے بچے ملک سے باہر ملیں گے‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ان کو بھی یہاں محفوظ نہیں سمجھتے اور آپ ملک میں پچاس سال سے اوپر لوگوں کے انٹرویوز بھی کرلیں آپ کو ننانوے اعشاریہ ننانوے فیصد میچور لوگ اپنے منہ سے کہتے ملیں گے’’ اس ملک میں کچھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں‘ انسان بس اتنا کرے جتنی اسے ضرورت ہے‘‘ یہ درویشی‘ درویشی نہیں یہ تباہی ہے۔آپ یاد رکھیں ہم جب ملک ریاض‘ حسین دائود‘ میاں منشاء‘طارق سہگل اورصدرالدین ہاشوانی جیسے لوگوں کو عبرت کی نشانی بنا دیں گے‘ حکومت جب اپنے ہاتھوںسے ان کی فیکٹریوں اور کمپنیوں کو تالے لگا دے گی تو پھر ملک نہیں چل سکے گا‘ ہم سلطان بہرام کا ملک بن جائیں گے اور یہ میں نہیں کہہ رہا یہ ابن خلدون نے ہزار سال پہلے کہہ دیا تھا چنانچہ آپ اگر ملک کو کامیاب دیکھناچاہتے ہیں تو پھر آپ لوگوں کو زمین‘ جائیداد‘ مال اور کاروبار کا تحفظ دے دیں‘ آپ یہ فیصلہ کر لیں ملک میں کاروبار کرنے والوں کو وزیر جتنی عزت دی جائے گی۔کسی شخص کی ایک انچ زمین اور سو روپے پر بھی کوئی شخص‘ کوئی ادارہ قبضہ نہیں کر سکے گا‘یقین کریں یہ ملک دس سال میں سو سال کے برابر ترقی کر جائے گا ورنہ غیر محفوظ جگہوں پر تو پرندے بھی انڈے نہیں دیتے جب کہ ہم تو پھر بھی انسان ہیں‘ہم دلدل پر اپنے بچے اور اپنے اثاثے کیوں رکھیں گے؟ جس ملک میں جمائما عمران خان کے بچے بھجوانے کے لیے تیار نہیں وہاں حسین دائود اپنے بچے اور پیسے کیوں رکھے گا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں