پاکستان کا نام نہاد آزاد میڈیا کس طرح سچ کا گلا گھونٹ رہا ہے اور لوگوں کو گمراہ کررہا ہے ؟ اوریا مقبول جان نے بڑے بڑوں کے پول کھول کر رکھ دیے

پاکستان کا نام نہاد آزاد میڈیا کس طرح سچ کا گلا گھونٹ رہا ہے اور لوگوں کو گمراہ کررہا ہے ؟ اوریا مقبول جان نے بڑے بڑوں کے پول کھول کر رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) میڈیا کے بارے میں دوسری پریشان کن وجہ ہمارے پروگراموں میں ہونے والی بحث اور گفتگو ہے اور اس دوران اینکرز کا رویہ۔اگر ایک اینکر آپ کے خیالات سے متفق ہے تو وہ آپ کو بولنے کا زیادہ سے موقع فراہم کرے گا۔ بیشک آپ ادھر ادھر کی ہانک رہے ہوں

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آپ کو نہیں روکے گا۔ لیکن اگر آپ کے خیالات اینکر سے مختلف ہیں تو پہلے وہ کہے گا کہ یہ چینل کی پالیسی کے خلاف ہے۔ غلط گفتگو ہے۔ آپ کی گفتگو کے دوران بار بار مداخلت کی جائے گی۔ بار بار ٹوکا جائے گا۔ آپ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی جائے گی اور جب آپ گفتگو ختم کریں گے تو آپ سے بدتمیزی سے پیش آیا جائے گا۔ شرم دلائی جائے گی‘ آپ کو ذلیل کیا جائے گا۔ میرے نزدیک یہ صرف بدتمیزی نہیں ہے بلکہ یہ گفتگو کے بنیادی اصولوں کو پس پشت ڈالنا ہے۔ دراصل بحث اور گفتگو کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں تک مختلف لوگوں کی مختلف آراء بلا کم و کاست پہنچائی جائیں اور فیصلہ سننے والوں پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ جس رائے کو چاہیں پسند کریں۔ آپ کا کام اور ذمہ داری تمام آراء کو منصفانہ طور پر لوگوں تک پہنچانا ہے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کوئی تحقیقی مواد ان آراء کے بارے میں فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں اینکر اپنی رائے کو ٹھونسنے اور اس کے مطابق پروگرام چلانے کے لئے آخری حد تک گزر جائے گا اور کوشش کرے گا کہ اس کی مخالف رائے لوگوں تک نہ پہنچ سکے۔ تیسری چیز جو میڈیا کے حوالے سے پریشان کن ہے وہ خبروں کی نوعیت ہے۔ یہاں اب خبریں پڑھنے والا صرف واقعہ بیان نہیں کرتا بلکہ ساتھ ساتھ تبصرہ بھی کر رہا ہوتا ہے اور آپ کو مجبو رکرتا ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں اس طرح سوچنا چاہیے۔

اس دوران وہ انتہائی عامیانہ اور گھٹیا فقرے بھی بولتا ہے جیسے یہ ظلم کی ایک داستان ہے‘ یہ خوفناک واقعہ ہوا ہے۔ اس واقعہ سے انسانیت کا سر شرم سے پانی پانی ہو گیا ہے یا پھر میں ’’فخر سے بیان کر رہا ہوں‘‘جیسے جملے خبریں پڑھنے والے کو ایڈیٹر کے اعلی منصب پر فائز کر دیتے ہیں، یوں وہ اپنے تمام سننے اور دیکھنے والوں کو کم عقل اور جاہل تصور کرتے ہوئے خود ہی انہیں بتاتے ہیں کہ واقعات کے بارے میں کیسے سوچنا چاہیے۔ کیا ایسا سب کچھ پاکستانی میڈیا میں نہیں ہو رہا۔ پاکستانی میڈیا کا شروع دن سے المیہ یہ ہے کہ ہم خود سب سے زیادہ آزادی اظہار کے مخالف اور لوگوں کی آوازیں دبانے والے ہیں۔ آپ پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی کسی خبر کو نشر کرتے ہیں‘ لیکن آپ وہ اس لئے نشر نہیں کرتے کیونکہ وہ آپ کے مخالف نظریے کی تائید کر رہی ہوتی ہے۔ مثلاً اس ملک میں لاکھوں مولوی رہتے ہیں وہ اپنے بیوی بچوں کو پیار بھی کرتے ہوں۔ پڑوسیوں سے بھی حسن سلوک کرتے ہوں گے۔ لیکن کوئی انہیں موضوع گفتگو نہیں بنائے گا کیونکہ ایسا کرنے سے ایک دیندار آدمی کا تصور بہتر ہوتا ہے۔ میں اکثر پوچھا کرتا ہوں کہ تم 1974ء سے 1988ء تک پاکستان میں ہونے والے بلاسٹس کا ذکر نہیں کرتے‘ شاید اس لئے کہ وہ افغانستان میں پناہ لینے والے قوم پرست رہنمائوں نے بھارت اور افغان حکومت کی ایما پر کروائے تھے۔ آپ کو مکتی باہنی کے ظلم کی کہانیاں کیوں یاد نہیں آتیں۔ آپ کو آنر کلنگ پر اس قبیح فعل کی حمایت کرنے والے سندھی اور بلوچ قوم پرست کیوں نظر نہیں آتے۔ پاکستان نے سچ کا جتنا گلا ’’آزاد میڈیا‘‘ نے گھونٹا ہے کسی آمر ڈاکٹیٹر یا جابر حکمران نے بھی نہیں روکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں