اسرائیل امارات معاہدے کے بعد اب کیا ہو گا اور اسرائیل کے قومی ترانے کے اندر امت مسلمہ کے لیے کیا خوفناک پیغام چھپا ہے ؟ سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے اسرائیلی ترانے کا ترجمہ بیان کردیا

اسرائیل امارات معاہدے کے بعد اب کیا ہو گا اور اسرائیل کے قومی ترانے کے اندر امت مسلمہ کے لیے کیا خوفناک پیغام چھپا ہے ؟ سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ نے اسرائیلی ترانے کا ترجمہ بیان کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) ایران اور پاکستان کو چین کی فراخدلانہ امداد کے باوجود‘امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے سبب‘ پاکستان کو اس صورت حال میں غیر جانبدارہنے کا مشورہ دے گا۔لہذا اب ہمیں ایٹمی صلاحیت کی بجائے اپنی’’ مزاحمتی صلاحیت‘‘ کے بارے دوسرے وسائل پرسوچنا چاہیئے۔ روایتی مزاحمت کی قیمت اور فری فلائٹ

راکٹوں اور پیٹریایٹ میزائلوں کی قیمت کا فرق ہی ہماری مزاحمتی صلاحیت کا جوہری عنصرہے۔ہماری نیک خواہشات اسرائیل کے ساتھ امن کے خواہاں عرب ممالک کے ساتھ ہیں لیکن فلسطین کی قیمت پر نہیں۔اس لئے کہ بہت جلدجب اسرائیلی وزیراعظم متحدہ عرب امارات کا دورہ کرے گااور اسرائیل کا قومی ترانہ بجایا جائے گا‘جس کا پیغام ہے:’’اس وقت تک ہمارے دشمنوں کو وحشت زدہ ہونے دو‘مصر اور کنعان میں بسنے والوں کوکانپنے دو‘بابیلون کے شہریوں پر کپکپی طاری رہنے دو‘ ان کے آسمانوں پرہماری طرف سے مصائب جاری رہنے دو‘ جب ہم ان کے سینوں میں اپنا نیزہ داخل کریں گے اور ان کا بہتا ہوا لہو اور ان کے سروں کو اترا دیکھیں گے۔‘‘اس پیغام میں مسلمانوں کی نسل کشی کا پیغام ہے۔مہذب دنیا شایداس ظلم پر خاموش رہے لیکن ظالم کے ہاتھوں پرلگے ہوئے دھبے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ’’اللہ تعالیٰ کی یہ رضا ہے( سورۃ الحج کی آیت 40) کہ یہ ظلم ناکام ہوکر رہے گا‘ جس طرح جرمن نازی یہودیوں کو ختم نہیں کرسکے‘ یہودی‘ فلسطینیوں کے جذبہ آزادی کو نہیں دبا سکتے‘ اور بھارتی کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو نہیں کچلا جا سکتا’‘ اس لئے کہ اللہ تعالی کا مقصود کچھ اور ہے:’’اگر اللہ تعالی لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو(راہبوں کے) صومعے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں‘ جس میں اللہ کا بہت ذکر کیا جاتا ہے گرائی جا چکی ہوتیں۔ اور جو شخص اللہ سے مدد طلب کرتا ہے اللہ اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔‘‘ (الحج آیت ۴۰)

اپنا تبصرہ بھیجیں