سر منڈاتے ہی اولے پڑگئے۔۔!! شہزاد اکبر کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ ، عدالت سے تازہ ترین خبر

سر منڈاتے ہی اولے پڑگئے۔۔!! شہزاد اکبر کی تعیناتی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ ، عدالت سے تازہ ترین خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ذرائع کے مطابق معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار سید پرویز ظہور کی جانب سے سینئر وکیل امان اللہ کنرانی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،

وکیل نے کہا کہ جولائی میں شہزاد اکبر کو داخلہ اور احتساب کا مشیر مقرر کیا گیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اب کیا خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ نیب میں مداخلت کر رہے ہیں؟ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے،سپریم کورٹ کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کو مشیر برائے احتساب مقرر کرنا نیب کا کنٹرول بالواسطہ وزیراعظم آفس منتقل کرنا ہے، نیب خود مختار ادارہ ہے جو نیب آرڈی نینس کے تحت کام کرتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی کا 22 جولائی کا نوٹفکیشن غیر قانونی قرار دیا جائے، مرزا شہزاد اکبر وزیراعظم کے مشیر اور وفاقی وزیر کے برابر عہدہ رکھتے ہیں انکی تعیناتی مسابقتی عمل اور آسامی مشتہر کیے بغیر غیر شفاف انداز میں کی گئی، مرزا شہزاد اکبر کو وفاقی وزیر کا عہدہ استعمال کرنے سے روکا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی غیر قانونی قرار دے کر وصول کی گئی تنخواہیں، الاونسز اور مراعات واپس لی جائیں شہزاد اکبر کی تقرری اقربا پروری، مفادات کا ٹکراو اور وزیراعظم کے حلف کی خلاف ورزی ہے، مرزا شہزاد اکبر اپنے سیاسی آقا کی خوشنودی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایک شہری سید پرویز ظہور نے مرزا شہزاد اکبر کی بطور چیئرمین ایسٹ ریکوری یونٹ تعیناتی کو بھی چیلنج کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں