آلِ سعود کی جانب سے36ماہ کیلئے ادھار تیل دینے کی پیشکش، مگر پاکستان اس سے کیوں فائدہ نہیں اُٹھا سکا؟ افسوسناک انکشاف

آلِ سعود کی جانب سے36ماہ کیلئے ادھار تیل دینے کی پیشکش، مگر پاکستان اس سے کیوں فائدہ نہیں اُٹھا سکا؟ افسوسناک انکشاف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان 36 ماہ کیلئے ادھار تیل فراہمی کی سعودی پیشکش سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ سعودی عرب نے پاکستان کو ہر ماہ 27 کروڑ ڈالر ادھار تیل کی پیشکش کی۔ دستاویز کے مطابق پاکستان 12 ماہ میں صرف 76.8 کروڑ ڈالر کا ادھار تیل حاصل کرسکا،

اس سال 9 جولائی کو ادھار تیل کی سہولت کا پہلا سال ختم ہوگیا، رواں مالی سال بھی پاکستان صرف ایک ارب ڈالر کے ادھار تیل کا خواہش مند ہے۔ ادھار تیل کی سہولت کا اعلان نومبر 2018 میں کیا گیا، سعودی فرماں روا شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے فروری 2019 میں دورہ پاکستان میں طے کیا، جولائی 2019 سے پاکستان کے لیے ادھار تیل کی سہولت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ذرائع کے مطابق ادھار تیل کی سہولت اسلامی ترقیاتی بینک کے ذریعے مل رہی تھی۔ دوسری جانب ترجمان وزارت خزانہ نے سعودی عرب سے تیل ادھار لینے کی سہولت سے متعلق وضاحتی بیان جاری کردیا۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سے 3 ارب 20کروڑ ڈالر کا تیل ادھار ملنےکی سہولت ایک سال کے لیے تھی جس کی تجدید ہوسکتی تھی۔ ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت رواں سال 9 جولائی کو ختم ہوگئی ہے اور اس معاہدے میں توسیع کی درخواست سعودی عرب کے ساتھ زیر غور ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا جس میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا امدادی پیکج دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدان کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس کے مطابق سعودی عرب نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ پاکستان کے اکاؤنٹ میں 3 ارب ڈالر ایک سال کیلئے ڈپازٹ کرے گا جس کا مقصد ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں