بریکنگ نیوز: نوازشریف کی ضمانت دینے کا انجام ۔!! شہبازشریف کے خلاف بڑے ایکشن کی تیاری، (ن) لیگی حلقوں میں ہلچل مچ گئی

بریکنگ نیوز: نوازشریف کی ضمانت دینے کا انجام ۔!! شہبازشریف کے خلاف بڑے ایکشن کی تیاری، (ن) لیگی حلقوں میں ہلچل مچ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا اور اجلاس میں نوازشریف کو لندن سے واپس لانے

کے لیے دو آپشنز پر غور کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کو نوازشریف کی واپسی اور گارنٹر شہباز شریف کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار بھی بتادیا گیا اور کابینہ نے نوازشریف کی گارنٹی دینے پر شہباز شریف کے خلاف عدالت جانےکا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ شہباز شریف سے گارنٹی کا اعتراف کرایا جائے، جس کے بعد شہبازشریف کی نااہلی کی استدعا کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے نوازشریف کو واپس لانے کے لیے برطانیہ سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا، برطانیہ سے استدعا کی جائے گی کہ نوازشریف مفرور ملزم ہیں لہٰذا انہیں واپس بھیجا جائے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی گارنٹی پر ہی نوازشریف بیرون ملک گئے ہیں، شہبازشریف یہاں سیاست اور بڑے بھائی لندن میں گھوم پھر رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فوراً وطن واپس لایا جانا چاہیے۔ کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرونگا۔ نواز شریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے اس سلسلے میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ ماضی میں دیے جانے والے این آر اوز کی وجہ سے ملک کے قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان اور کابینہ کے ارکان نے اس امر کا اعادہ کیا کہ این آر او کے حوالے سے حکومت بلیک میل نہیں ہوگی۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف کی جانب سے عدالت میں بیماری کو عذر بنا کر ضمانت کی درخواست کی گئی۔ اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی جانب سے بھی گارنٹی دی گئی ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں 29اکتوبر 2019ء کو نواز شریف کو آٹھ ہفتے کے لئے ضمانت ملی۔ 16نومبر 2019ء کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے اور چار ہفتوں کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔ اس حوالے سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں نے شخصی ضمانت دی۔ جس میں انہوں نے وطن واپسی، میڈیکل رپورٹس باقاعدگی سے جمع کرانے اور حکومت پاکستان کے نمائندے کی جانب سے میڈیکل رپورٹس کے معائنے پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرنے اور مکمل تعاون کرنے کی ضمانت دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 23دسمبر 2019ء کو میاں نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے ضمانت میں توسیع کے لئے درخواست دی گئی۔ اس ضمن میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور 19,20اور 21فروری 2020ء کو پرسنل ہیرنگ کے لئے تین مواقع فراہم کیے گئے لیکن میاں نواز شریف نہ تو خود پیش ہوئے اور نہ کوئی نئی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی۔ 27فروری 2020ء کو میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو رد کر دیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف کی روانگی کے وقت برطانوی حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے اور عائد شرائط سے آگاہ کیا گیا تھا۔ 02مارچ کو برطانوی حکومت کو حکومت پنجاب کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔ کوویڈ کی وجہ سے مختلف ملکوں کی طرح برطانیہ کے وزٹ ویزوں میں توسیع کی گئی۔ میاں نواز شریف بھی وزٹ ویزے پر برطانیہ میں اسی توسیع کے تحت موجود ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے ضمانت کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی ہے جس کا تحریری فیصلہ آنا باقی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں