بریکنگ نیوز: سعودی عرب سخت مشکل سے دوچار ۔۔۔۔ اسلامی دنیا کی چوہدراہٹ سے محروم ہونے کا قوی امکان ۔۔۔۔۔ تازہ ترین اطلاعات

بریکنگ نیوز: سعودی عرب سخت مشکل سے دوچار ۔۔۔۔ اسلامی دنیا کی چوہدراہٹ سے محروم ہونے کا قوی امکان ۔۔۔۔۔ تازہ ترین اطلاعات

کراچی (ویب ڈیسک) حالیہ ہفتوں میں برادر ممالک سعودی عرب اور پاکستان کے دہائیوں کے معاشی، سیاسی اور فوجی تعلقات میں رکاوٹ آگئی ہے۔ اس کی فوری وجہ پانچ اگست کو بھارت کی کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح طور پر

مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر قیادت دکھائے۔ انہوں نے ریاض سے کہا تھا کہ وہ او آئی سی کا خصوصی اجلاس بلاکر اس پر بات چیت کرے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق قریشی نے یہ بھی کہا کہ اگر سعودی عرب نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب نہیں کیا تو پاکستان مسلم ممالک – ملائیشیا ، ترکی اور ایران جانے پر مجبور ہوگا جنہوں نے کشمیر کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا اور پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق دنیا کے قدیم ترین دفاعی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (آر یو ایس آئی) نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ تنازع کو ٹھنڈا کرنے کا کریڈٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دیا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کے گزشتہ ہفتے دورہ سعودی عرب میں سعودی حکام کو یقین دہانی کرائی گئی کہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات قائم رہیں گے۔ نامور صحافی مرتضی علی شاہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔جنرل باجوہ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تعلقات کو حقیقت پسندانہ بنایا ہے جس میں دونوں ملک تاریخ اور نعروں سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو ذاتیات اور ون مین شو سے ہٹا دیا ہے جبکہ شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں سعودی ادارے کے ماتحت پہلی نجی سرمایہ کاری کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک ارب ڈالرز کی واپسی ، پاکستان میں 20؍ ارب ڈالرز کی نجی سعودی سرمایہ کاری کے مقابلے میں معمولی معلوم ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں