نواز شریف کی وطن واپسی! حکومت نے مسلم لیگ(ن) کے سامنے 2 آپشن رکھ دیئے ،سوچ بیچار شروع

نواز شریف کی وطن واپسی! حکومت نے مسلم لیگ(ن) کے سامنے 2 آپشن رکھ دیئے ،سوچ بیچار شروع

لاہور (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی کے لیے دو آپشنز زیر غور ہیں۔92 نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے دو آپشنز پر غور کر رہی

ہے۔حکومت نواز شریف کی براہ راست حوالگی کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھے گی۔خط میں مارچ میں لکھے گئے خط کا حوالہ دیا جائے گا۔حکومت مارچ میں نواز شریف کی حوالگی سے متعلق برطانوی حکومت کو آگاہ کر چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسری آپشن میں لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی ضمانت ضبط کرانے پر غور کیا گیا۔لیگل ٹیم کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے لیگل ٹیم کو لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی ضمانت ضبط کرانے پر زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب حکومت اور لیگل ٹیم شہباز شریف کی ضمانے ضبط کرانے کے لیے کام کریں۔شہباز شریف کی گارنٹی پر ہی نواز شریف بیرون ملک گئے۔شہباز شریف یہاں سیاست کررہے ہیں جب کہ بڑے بھائی لندن میں گھوم پھر رہے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ روز وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری دی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو وطن واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے،کسی بھی قسم کی بلیک میلنگ برداشت نہیں کروں گا،اس متعلق تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں دیں گے۔قوم کی دولت لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران کابینہ ارکان کا کہنا تھا کہ نوا زشریف مجرم ہیں واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں۔ حکومتی لیگل ٹیم کو نواز شریف کو واپس لانے کا ٹاسک مل گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مریم نواز کی حالیہ سرگرمیاں بھی زیر بحث آئیں۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے مریم نواز کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کو نیب آفس کے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی پر گرفتار کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں