نیوزی لینڈ مسجد پر دھاوا بھولنے والے کو سزا سُنا دی گئی

نیوزی لینڈ مسجد پر دھاوا بھولنے والے کو سزا سُنا دی گئی

ولنگٹن(ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ میں مساجد پر دھاوا بھولنے کرنے والے شر پسند برینٹن ٹیرنٹ کو عمرقید کی سزا سنادی گئی، جج کیمرون ماندر نے ملکی تاریخ کی سخت ترین سزا سنائی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی ایک عدالت کے جج کیمرون ماندر نے شر پسند برینٹن ٹیرنٹ

کو بغیر پیرول عمر قید کی سزا سنائی، ملک میں پہلی بار کسی مجرم کو بغیر پیرول عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ نیوزی لینڈ میں بغیرپیرول کے عمر قید سخت ترین سزا ہے۔ شر پسند نے پہلے پہل اپنے پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی لیکن بعد میں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ برینٹن ٹیرنٹ نہ صرف 51 افراد کو شہید کیا بلکہ اس کے علاوہ وہ 40 مزید افراد کو قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ عدالت کے جج نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ تمہارا جرم اس قدر گھناؤنا ہے کہ اگر تم کو قید میں موت آ جائے تو بھی تمہاری سزا پوری نہیں ہوگی، یہ عمل غیر انسانی تھا اور اس نے کسی پر رحم نہیں دکھایا۔ مجرم نے اپنے وکیل کے ذریعے عدالت میں کہا کہ وہ خود پر عائد کردہ سزا کی مخالفت نہیں کرے گا۔ خیال رہے کہ شر پسند نے کرائسٹ چرچ کی 2مساجد میں فائرنگ کرکے 51نمازیوں کو شہید کیا گیا تھا۔ آسٹریلوی شہری برینٹن پر رواں برس کے اوائل میں 51 افراد کو قتل اور 40 پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں سزائے موت کا قانون 1989میں ختم کردیا گیا تھا۔ جج کیمرون ماندر نے شر پسند کو نیوزی لینڈ کی تاریخی سخت ترین سزا سنائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں