تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالہ سے اہم اجلاس، بڑا فیصلہ کر لیا گیا

تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالہ سے اہم اجلاس، بڑا فیصلہ کر لیا گیا

ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق سی این او سی کا اجلاس ہوا

اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں اورمدارس کے نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس میں شرکاکورونا کی ملکی و عالمی سطح پرصورتحال سے آگاہ کیا گیا،شرکا کو تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد طلبہ کو درپیش خطرات کا جائزہ لیاگیا

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں فیس ماسک کااستعمال اورسماجی فاصلے پرعملدرآمد چیلنج ہوگا،حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا،تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی ، کالجز ، ہائی اسکولز کی ترتیب کے مطابق کھولا جائے گا،

این سی او سی اجلاس میں شرکاء نے تجویز دی کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا جائے،تعلیمی اداروں کو بڑی سے چھوٹی کلاسز کی طرف مرحلہ وار کھولا جائے،پہلے یونیورسٹی پھر کالج اور بعد میں اسکول کھولے جائیں،تعلیمی اداروں میں زیادہ ہجوم والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے،

این سی او سی اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے روٹیشن پالیسی اپنائی جائے گی ،حتمی فیصلے سے پہلے تعلیمی ادارے کورونا سے نمٹنے کےلیے تمام انتظامات تیار رکھیں

این سی او سی اجلاس میں تمام صوبائی ، آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی نمائندوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی ماہرین ، اور تھنک ٹینکس کے ساتھ خصوصی اور طویل مشاورت کے بعد ان چیلنجوں کو سامنے لایا گیا ہے ، خاص طور پر ہم تعلیمی ادارے کھولنے کے موقع پر کون کون سے کام کرنے ہیں۔

تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے سے قبل تعلیمی اداروں کو تمام کوڈ پروٹوکول کو یقینی بنانا چاہئے اور اسی کے مطابق تیاری کرنی ہوگی۔ این سی او سی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ ٹریکنگ ، ٹریسنگ اور جانچ سے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر فیصل سلطان نے شرکاء کو بتایا کہ این سی او سی اور وزارت صحت روزانہ کی بنیاد پر بیماریوں کے اعدادوشمار کی گہرائی سے نگرانی کریں گے ، خاص طور پر تعلیمی اداروں کے افتتاح پر بھی خیال رکھا جائے گا ، آئی ٹی پر مبنی مانیٹرنگ میکنزم تیار کیا جائے تاکہ صحت کی رہنما خطوط اور کوویڈ کنٹینمنٹ اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں