نواز شریف کی رپورٹس غلط؟ عمران خان ڈٹ گئے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

نواز شریف کی رپورٹس غلط؟ عمران خان ڈٹ گئے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

نواز شریف کی رپورٹس غلط؟ عمران خان ڈٹ گئے،اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عام تاثر یہ بن رہا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کی جو عمر ہے اس عمر میں ہر بندے کو کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے،ن لیگ کا مقصد لیڈر کو نکالنا تھا

اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ آپ کے دوست لمبے پھنس گئے ہین انکا کیس نیب نے عدالت بھیج دیا، اور عدالت بھی انکو ریلیف نہیں دے رہی ،جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کونسے دوست کی بات کر رہی ہیں ، اینکر مریم خان نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی بات کر رہی ہون، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بڑا مشکل ہے کہنا ،ہم نے تو میر شکیل اور انکے ادارے سے بڑی لمبی لڑائی کی ہے،ابھی تک ہمارے کئی کیسز آپس میں عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں، انہوں نے میرے اوپر اور میں نے ان کے اوپر کیے ہوئے ہیں، میں نے انکا نیب کا کیس دیکھا،یہ میرے خیال میں بلا جواز اور غلط ہے، جو ری ایکشن ہوا وہ انفرادی طور پر لوگوں نے دیا، کسی اینکر، وکیل ،تجزیہ کار ،سیاسی لیڈر نے دے دیا، پی بی اے ،اے پی این ایس، سی پی این ای کو اپنے ممبرز کو پروٹیکٹ کرنا چاہئے تھا، انکو دفاع کے لئے جانا چاہئے تھا،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں میر صاحب کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، نیب نے میر صاحب پر کوئی کیس کرنا تھا تو میرے سے پوچھ لیتے میں کوئی بہتر بتا دیتا، لیکن انہوں نے اب اسے نکل جانا ہے، یہ ایک غلط بیج پڑ گیا ،کسی بھی بات پر اندر کر دیا جاتا ہے،نیب کی پراسیکیوشن مجھے بہت کمزور لگ رہی ہے، میرا نہیں خیال کہ جو کیس انہوں نے دائر کیا اس پر زیادہ دیر جیل میں رہ سکیں، کیس بہت کمزور ہے، جسدن وہ سپریم کورٹ چلے گئے مجھے یقین ہے انکو ریلیز ملے گا،میر شکیل اور ان کے ادارے سے اختلافات اپنی جگہ لیکن جو بات غلط ہے، غلط ہے، اس پر سب کو ماننا پڑے گا، پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا کا ادارہ ہے،اسکے روح رواں کو اگر پکڑا جا سکتا ہے تو پھر کوئی بھی میڈیا والا غیر محفوظ ہو گا، ہمیں اس کے اوپر سوچ بچار کرنی چاہئے، سب کو ارباب اختیار کو بھی اور ہمیں بھی،

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ اعلیٰ عدالت میں جائیں تو ہماری عدالتیں خود مختار ہیں اور میرٹ پر فیصلہ کرتی ہیں، آپ کی خواہش پوری نہیں ہو گی ،وہ رہا ہو جائیں گے،میں کل پرسوں آپ کو اس کیس کی مزید تفصیل بتاؤن گا،ہمیں پتہ تھا جب اے آر وائی پر پروگرام کیا تھا تو اسوقت 54 کنال کا ذکر کیا تھا، جو الزام لگے وہ سمجھ سے باہر ہیں، اگر وہ یہ کہتے کہ زمین کیوں خریدی،کیسے خریدی،یہ تو سمجھ آتا ہے لیکن جو بات انہوں نے کی وہ سمجھ میں نہیں آتی، اسوقت چیف منسٹر نواز شریف تھے، وہ چاہتے ہیں کہ میر صاحب ایفی ڈیوٹ دے دیں کہ نواز شریف نے یہ دیا، میاں صاحب تو کافی پی رہے ہیں لیکن باقی جو ایل ڈی اے کے لوگ ہیں وہ باہر ہیں انکو نہیں پکڑا ہوا، جس نے غلط کیا اسکو تو پکڑیں، نہ وہ وعدہ معاف گواہ بنے ہیں،پھر میرٹ پر یہ کیسے اندر؟

نیو ان آرٹیکل 1

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرا ایک کیس تھا اسلام آباد میں، کئی سال ہم نے بھگتا، میں اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ عدالتوں کی کاروائی پر بولنا صحیح نہیں ہوتا، جس نے بینر بنائے اسکوپولیس نے پکڑ لیا، میں اور میری ٹیم اسکو کبھی نہیں ملے،میں نے اسکو عدالت میں پہلی بار دیکھا،جب وہ پیش ہوا، اس کیس میں سب کی ضمانت ہو گئی،سوائے میرے، ایک آدمی کو مین ملا نہیں، کبھی فون پر بات نہیں لیکن میں پھنسا ہوا ہوں اور وہ بھائی جان نکل گئے،نیب کی کہانی بھی مجھے ایسی ہی لگتی ہے،نیب کو جواب دینا پڑے گا جس جس کو بھی اندر رکھا،فواد حسن فواد ہو، احد چیمہ،سعد رفیق،میر شکیل‌ صاحب،بھائی کیس ثابت تو کر لو،کیس کا کوئی نتیجہ نہیں،پراسیکیوشن ہی کمزور ہے،ہم کہتے ہیں کہ آج مریم نے اس رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں مجھے ثابت کرنا پڑے گا تصویر دکھانی پڑے گی، تاریخ اور ٹایم ہو گا، آپ اپنی آرگومنٹ کو پیش کریں، کوئی ثبوت، گواہ دے دیں، عدالت میں ثبوت دینے پڑتے ہیں جو میں دیکھا وہ نیب کے ہی خلاف ہے

اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کو منانے انکی رہائشگاہ پہنچ گئی،اور تمام اپوزیشن پارٹیوں کو ایوان میں اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ اس پروگرام کو مولانا لیڈ کریں گے، ایوان میں لانے کی کیا بات ہے،مولانا کو آگے ضرور لگا رہے ہیں لیکن لیڈر شپ کی بھاگ دوڑ دینے میں گھبرا رہے ہیں کیونکہ ایوان میں مولانا نہیں ہے، لیکن یہ ہے کہ ن لیگ ،پی پی کا ایک کمال تو ہے کہ یہ سیاسی جماعتیں ہیں اور انکو سیاسی انگیج کرنا آتا ہے لوگوں کو، ضروری نہیں کہ میں انکے ایجنڈہ سے متفق ہوں لیکن وہ ماحول ضرور بناتے ہیں،میں نے کہا تھا کہ محرم کے فوری بعد رابطے شروع ہو جائیں گے ، وہ پہلے شروع ہو گئے

اینکر مریم خان نے سوال کیا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے تحریک انصاف کے لوگ جعلی قرار دے رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد کہہ رہی ہیں کہ وہ رپورٹ درست ہے،آپ کو نہیں لگتا کہ پارٹی کے اندر اتفاق نہیں ہے، جس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتاکہ رپورٹ درست تھی،یاسمین راشد غلط کہہ رہی ہے، جو کنڈیشن عدالت میں بتائی گئی کہ جی یہ سروائیو نہیں کرنا اس مریض نے عدالت نے کہا کہ زندگی کی گارنٹی تو حکومتی وکیل نے ہاتھ کھڑے کر دیئے،لوگوں نے یہ تاثر پایا کہ ابھی گئے اس طرح کی خبریں چلوائی گئیں پھر وہ گئے اور جس طرح وہ گئے سیڑھیاں چڑ کر گئے،جہاز میں بیٹھے، قطر مین سٹے کیا، پھر لندن پہنچے، لندن میں ایک رات ہسپتال میں نہیں رہے،پھر اسکے بعد وہ کبھی اس کافی شاپ میں، کبھی شاپنگ، کبھی واک کر رہے ہیں، عام تاثر یہ بن رہا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کی جو عمر ہے اس عمر میں ہر بندے کو کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے،ن لیگ کا مقصد لیڈر کو نکالنا تھا وہ نکال لی، اب پی ٹی آئی ایک پیج پر نہیں ، یا تو یاسمین راشد، یا پھر وفاقی وزرا غلط ہیں، دونوں میں سے ایک پر ایکشن ہونا چاہئے، اگر ایکشن نہیں ہوتا تو حکومت کی نااہلی ہو گی، یا یاسمین راشد کو فارغ کریں یا وزرا کو

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تو سلمان شہباز، اسحاق ڈار کو نہیں لا سکے، عابد شیر علی کو نہیں لا سکے، جہانگیر ترین چلے گئے، تو میاں صاحب کو کہاں سے لا سکتے ہیں، اس طرح کی چیزں اپوزیشن کے لئے ہوتی ہیں، ن لیگ کو نیچے لگانے کے لئے انکے لیڈر کی دوڑیں لگواتی ہیں، یہ ہو رہا ہے کہ تم حکومت پر پریشر کم کرو، نواز شریف آئیں گے وہ تب آئیں گے جب انکی چوائس ہو گی، آپکی او رمیری خواہش پر انہوں نے نہیں آنا، الطاف حسین کا اوپن کیس ہے، اس حکومت کا کونسا ادارہ ہے جس نے الطاف حسین کو عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی اداروں سے الطاف کو واپس لانے کی کوشش کی، باتیں کرنے کی اور ہوتی ہیں عملی جامہ پہنانا اور بات ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں