افغان طالبان وفد سے کیا بات چیت ہوئی؟ شاہ محمود قریشی نے بتا دیا

افغان طالبان وفد سے کیا بات چیت ہوئی؟ شاہ محمود قریشی نے بتا دیا

افغان طالبان وفد سے کیا بات چیت ہوئی؟ شاہ محمود قریشی نے بتا دیا

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان طالبان نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات سودمند رہی،

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے ،امن اگر طاقت سے آتاتو 41 سال کا عرصہ کم نہیں تھا،وفد سے گفتگو دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق ہوئی وفد نے دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد میں درپیش مشکلات سے آگاہ کیا،لویہ جرگہ کا انعقاد مثبت پیش رفت ہے،

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے عبداللہ عبداللہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا وزیراعظم نے عبداللہ عبداللہ کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی پاکستان کی کوشش ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کو جلد آگے بڑھایا جائے،

واضح رہے کہ افغان طالبان کے سیاسی دفتر کا وفد ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں اسلام آباد پہنچا تھا، افغان طالبان کا وفد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر پاکستان آیا تھا۔ وفد نے افغان دھڑوں کے درمیان مفاہمتی عمل کے حوالے سے پاکستانی قیادت سے بات چیت کی تھی

ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں افغان طالبان کے وفد نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی جس میں افغانستان امن عمل میں حالیہ پیشرفت،بین الافغان مذاکرات کے جلد انعقاد سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔افغان طالبان کے وفد نے وزیر خارجہ کو طالبان اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا،

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان شروع دن سے یہی موقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ افغان مسئلے کا دیرپا اور مستقل حل افغانوں کی سربراہی میں مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے ،پاکستان، افغان عمل امن میں، اپنا مصالحانہ کردار، مشترکہ ذمہ داری کے تحت ادا کرتا آ رہا ہے ،پاکستان کی مخلصانہ ،مصالحانہ کاوشیں 29 فروری کو دوحہ میں طے پانے والے طالبان امریکہ امن معاہدے کی صورت میں بارآور ثابت ہوئیں ،توقع ہے کہ افغان قیادت،افغانستان میں قیام امن کیلئے ، اس امن معاہدے کی صورت میں میسر آنے والے نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیگی ،پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے ، انٹرا افغان مذاکرات کے جلد انعقاد کا متمنی ہے ،پاکستان اور افغانستان کے مابین دیرینہ مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے گہرے برادرانہ تعلقات ہیں ۔

وزیر خارجہ نے افغان طالبان کے وفد کو افغان امن عمل کو سبوتاژ کرنے اور ” سپائیلرز ” سے متعلقہ ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ کیا،اور کہا کہ پاکستان،افغان امن عمل سمیت خطے میں دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے اپنی مصالحانہ کوششیں جاری رکھے گا ،افغان طالبان کے وفد نے افغان امن عمل میں پاکستان کی طرف سے بروئے کار لائی جانے والی مسلسل کاوشوں اور پر خلوص معاونت پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں گزشتہ برس ماہ اکتوبر میں بھی افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا،واضح رہے کہ پاکستان کے  وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ افغان طالبان کا وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت کو اعتراض تھا،افغانستان میں خانہ جنگی پورےخطےکومتاثرکررہی ہے، کوشش ہےکہ طالبان اورامریکہ کےدرمیان دوبارہ بات چیت شروع ہو.طالبان وفد مجھ سے ملنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت نےاعتراض اٹھایا ،افغان مسئلےکافوجی حل نہیں،مذاکرات کےذریعے ہی اس کاحل نکالاجاسکتا ہے،امریکہ طالبان مذاکرات کےبعدافغانوں میں بات چیت ہونی تھی،

اپنا تبصرہ بھیجیں