عدالتی فیصلے میں کہا گیا نواز شریف علاج کے بعد ہی واپس آئیںگے،احسن اقبال کا دعویٰ

عدالتی فیصلے میں کہا گیا نواز شریف علاج کے بعد ہی واپس آئیںگے،احسن اقبال کا دعویٰ

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت عدالت نے دی ،نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے تسلی کرکے دی

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت برطانیہ کو بھی کہاگیا کہ نوازشریف کوعلاج کے لیے بھیج رہے ہیں،افسوس کی بات ہے حکومت نان ایشوز پر سیاست کررہی ہے،حکومت سمجھتی ہے آئی سی یو میں داخل شخص ہی مریض کہلاتا ہے ،سینیٹر حاصل بزنجو کینسر کے مریض تھے ،2روز قبل تندرست تھے اور انتقال کرگئے،

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا کی وجہ سے تمام اسپتا ل بند رہے ہیں،لندن میں کورونا کے دوران اسپتال میں ایمرجنسی حالت تھی،ڈاکٹرز نے نوازشریف کو کہا بندکمرے کے بجائے چہل قدمی کیا کریں ،عدالتی فیصلے میں کہا  گیا ہے کہ نواز شریف علاج کے بعد ہی وطن آسکیں گے،بیگم کلثوم نواز کی صحت پر بھی سیاست ہوئی ،بعد میں منہ چھپا رہے تھے،

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ فیٹف سے متعلق قانون سازی سینیٹ میں مسترد ہوئی،ہم نے فیٹف سے متعلق قانون سازی کی مخالفت نہیں کی ،ہمیں خدشہ تھا جیسے نیب کا استعمال ہورہا ہے ایسے فیٹف کانہ ہو،

نواز شریف لندن میں علاج کے لئے گئے تھے کرونا وائرس کے آنے کے بعد نواز شریف کے علاج بارے ذاتی معالج بھی خاموش ہیں نواز شریف کے پلیٹ لٹس کے اتار چڑھاؤ بارے کوئی خبر نہیں دی جا رہی.اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، فیملی ممبران اور ڈاکٹر عدنان بھی میاں نواز شریف کی صحت بارے خاموش ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے معلومات کے لئے رابطہ کیا تو جواب نہیں دیا جا رہا

شہباز شریف بھی نواز شریف کے ہمراہ لندن گئے تھے لیکن وہ کرونا کے پھیلاؤ کے بعد واپس آچکے ہیں، شہباز شریف کرونا کے حوالہ سے حکومت پر روزانہ تنقید تو کر رہے ہیں لیکن نواز شریف کی صحت بارے وہ بھی خاموش ہیں، مریم نواز نے بھی لندن جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن حکومت نے جانے کی اجازت نہیں دی، مریم نواز نے بھی والد کی صحت بارے ابھی تک کوئی ٹویٹ نہیں کی.

دوسری جانب وفاقی حکومت نے نواز شریف کی واپسی کے لئے برطانوی حکومت کو خط لکھ دیا ہے، نواز شریف کی واپسی کے لئے خط پنجاب حکومت کی سفارش پر لکھا گیا ہے.

خط میں کہا گیا کہ نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں، انہیں واپس بھجوایا جائے، نواز شریف کی ضمانت کی مدت ختم ہو چکی ہے، وزارت خارجہ نے خط برطانوی حکومت کو لکھا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سزا یافتہ مجرم کو واپس بھجوایا جائے تا کہ وہ پاکستان آ کر اپنی سزا مکمل کریں، چار ہفتوں کی ضمانت کا وقت ختم ہو چکا ہے

دوسری جانب مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت کے حوالہ سے دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے

واضح رہے کہ پنجاب حکومت میں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے

خیال رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاج کے سلسلہ میں 20 نومبر سے لندن میں موجود ہیں، اسپتال ذرائع کے مطابق نوازشریف کے دل کوخون پہنچانے والی شریان سکڑ گئی ہے ، خون کی روانی کو برقراررکھنےکیلئے’’کورنری انٹروینشن‘‘ کی ضرورت ہے اور اگر علاج کامیاب نہ ہوا تو مسلم لیگ ن کے تاحیات صدر کا بائی پاس کیا جائے گا۔

العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف  8 ہفتوں کے لیے دی گئی ضمانت ختم ہو چکی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8ہفتوں کیلئے نوازشریف کی ضمانت منظور کی تھی،عدالت نے ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سےرجوع کرنےکاحکم دیاتھا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت پر سوال اٹھا دیئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا بظاہر اس عدالت کے فیصلے کی حد تک ملزم اشتہاری ہو چکا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ ریفرنس میں مفرور قرار دینے کیخلاف نواز شریف کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا نواز شریف کی دو اپیلیں زیر التوا ہے، 8 ہفتے کی ضمانت کا کیا سٹیٹس ہے؟ کیا نواز شریف کی وہ ضمانت ختم ہو چکی ہے۔

نمائندہ نواز شریف نے عدالت کو بتایا ضمانت قائم ہے، پنجاب حکومت کو درخواست دی تھی ابھی آرڈر کاپی موجود نہیں۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بظاہر اس عدالت کے فیصلے کی حد تک ملزم اشتہاری ہو چکا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی ضمانت غیر موثر ہو چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں