سلمان شہباز کے وارنٹ جاری، شہباز شریف کی بیٹیاں بھی عدالت طلب

سلمان شہباز کے وارنٹ جاری، شہباز شریف کی بیٹیاں بھی عدالت طلب

احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی

احتساب عدالت لاہورنے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،عدالت نے سلمان شہباز کو گرفتار کر کے عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے نصرت شہباز کو نوٹس جاری کر کےآئندہ سماعت پر طلب کر لیا،عدالت نے شہباز شریف کی بیٹیوں رابعہ عمران اورجویریہ علی کو بھی طلب کر لیا

عدالت نے ملزم علی احمد اور طاہر نقوی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے،عدالت نے ڈی جی نیب کو ملزموں کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا،

تفتیشی افسر نے کہا کہ نصرت شہباز پاکستان میں موجود نہیں ہے، جج جواد الحسن نے استفسار کی اکہ جویریہ علی کو شامل تفتیش کیا گیا؟ ملزمہ پر کیا الزام ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ جویریہ علی کو سوالات بھیجے گئے تھے مگر ملزمہ نے کوئی جواب نہیں دیا گیا، ملزم علی احمد کے وارنٹگرفتاری جاری ہوئے تھے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوا، ملزم علی احمد کو مخلتف جگہوں پر تلاش کیا گیا مگر ملزم ٹریس نہیں ہوا، ملزم سید محمد طاہر نقوی گرفتاری سے بچنے کیلئے بیرون ملک فرار ہے،

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نصرت اور رابعہ عمران کے بارے میں اطلاع ہے کہ دونوں بیرون ملک ہیں،تفتیشی افسر نے کہا کہ نصرت شہباز ، رابعہ عمران اور جویریہ علی کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر انکے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے،عدالت نے کیس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کر دی

قبل ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے، وکیل نے کہا کہ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز دستیاب نہیں کیس ملتوی کیا جائے ،نیب نے کہا کہ کیس پر آج ہی کاروائی شروع کر کہ گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں ،جج احتساب عدالت نے کہا کہ حمزہ شہباز کو جیل سے لا کے پیش کریں اسکے بعد کیس سنتے ہیں

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو احتساب عدالت پیش کردیا گیا،شہباز شریف بھی عدالت میں پیش ہوئے،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے احتساب عدالت میں حاضری لگوادی،ملزم راشد کرامت، فضل داد اور شعیب قمر کی بھی عدالت میں حاضری لگادی گئی

نیب کا مؤقف ہے کہ شریف فیملی کی منی لانڈرنگ اور بے نامی کمپنیاں’ پچپن کے‘ نامی دفتر سے چلتی تھیں۔ قومی احتساب بیورو کی معلومات کے مطابق 2008 سے 2018 تک شہباز شریف خاندان کے چار ارکین کے اثاثوں میں چار سو پچاس فیصد جبکہ صرف سلمان شہباز کے اثاثوں میں نو سو فیصد اضافہ ہوا۔ 2009 میں شریف فیملی کے اثاثے اڑسٹھ کروڑ، تینتیس لاکھ سینتیس ہزار تھی جبکہ 2018 تک اثاثوں کی مالیت تین ارب اڑسٹھ کروڑ پندرہ ہزار روپے تک پہنچ چکی تھی۔

دستاویزات کے مطابق 2008 میں سلمان شہباز کے کل اثاثوں کی مالیت اٹھائیس کروڑ چوبیس لاکھ روپے تھی جو نو سو فیصد اضافے کے بعد 2018میں دو ارب چونتیس کروڑ چھیانوے لاکھ روپے ہو گئے ہیں۔ حمزہ شہباز کے اثاثوں میں دس سال کے دوران تقریباً سو فیصد اضافہ ہوا۔ دستاویزات کے مطابق دس سال پہلے حمزہ شہباز کے اثاثوں کی مالیت اکیس کروڑ بارہ لاکھ روپے تھی جو اب اکتالیس کروڑ اکہتر لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ نصرت شہباز کے اثاثے بھی دس سالوں میں تیرہ کروڑ سے بڑھ کر تئیس کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف کے اثاثے 2008 میں پانچ کروڑ پچپن لاکھ تھے جو اب چھ کروڑ چونسٹھ لاکھ ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ رمضان شوگر ملز کیس میں‌ نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کر رکھا ہے، حمزہ شہباز جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے ہیں، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نیب نے حمزہ شہباز کو گرفتار کیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں