جب معاملے کو غور سے دیکھا گیا تو کیا حقائق سامنے آگئے ؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینے والی خبر

جب معاملے کو غور سے دیکھا گیا تو کیا حقائق سامنے آگئے ؟ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینے والی خبر

لاہور (ویب ڈٰسک) چند روز قبل پاکستان کی چند صحافی خواتین نے ایک مشترکہ بیان تیار کیا تھا جس میں حکومتی جماعت کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس جماعت کی سوشل میڈیا ٹیمز کی جانب سے صحافی خواتین کو تنگ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا آزادی کے ساتھ اپنے فرائض

انجام دینا مشکل ہو گیا ہے اس بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی جماعت کے اندر ایسے تمام ممبران سے فوری طور پر اس طرح کی حرکات بند کرنے کا حکم جاری کرے۔نامور خاتون صحافی عالیہ شاہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ اس کے بعد ٹویٹ در ٹویٹ کا سلسلہ شروع ہوا پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور ان خواتین کو بلا کر ان کی بات سنی گئی۔حکومتی جماعت کے چند ممبران سامنے آئے جن کا کہنا تھا کہ ان پر یا ان کی جماعت پر یہ سراسر الزام ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی اور وزیر اعظم کے فوکل پرسن فار سوشل میڈیا ارسلان خالد کے متعلق یہ کہا گیا کہ صحافی خواتین کو سوشل میڈیا پر تنگ کرنے میں وہ شامل ہیں۔ لیکن جواب کے طور پر وہ الزام لگانے والی صحافی خواتین کے بیانات تحریریں اور ٹویٹس منظر عام پر لے آئے، جن سے یہ ثابت کیا گیا کہ یہ جرنلسٹ پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں کے نظریے سے تعلق رکھتی ہیں اور کئی بار فیک نیوز کا سہارا لے کر حکومت کو بدنام کرتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں سکرین شاٹس اور تصاویر شیئر کی گئیں۔ بات یہیں پر ختم ہو جاتی اگر یہ بات صرف حکومتی جماعت کے جوابی کارروائیوں تک رہتی۔ لیکن کیونکہ اس مشترکہ بیان میں پندرہ خواتین شامل تھیں جبکہ اس سے کئی گنا زیادہ تعداد ایسی صحافی خواتین کی تھی جن کے دستخط اس مشترکہ بیان پر نہیں تھے

اور نہ ہی وہ اس قرارداد کا حصہ تھیں۔ چند صحافی خواتین منظر عام پر آئیں اور انہوں نے اس مشترکہ بیان کی نفی کر دی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مشترکہ بیان تیار کرنے والی صحافی خواتین کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا صرف جمہوریت پسند خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ جمہوریت پسند صحافی ہیں اس لیے ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید میڈیا میں موجود باقی خواتین جمہوری رویوں کے برعکس سوچ رکھتی ہیں۔ اس سلسلے میں صحافی اور اینکر پرسن مہر بخاری نے کہا کہ قرارداد پیش کرنے والی خواتین جو غیر جانبدار ہیں ان کو متعصب کہہ رہی ہیں اور جو متعصب ہیں ان کو جمہوریت پسند کہا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں اینکر پرسن شفا یوسفزئی، فریحہ ادریس اور چند اور آوازیں بھی اٹھیں۔ اس معاملے پر جب میں نے یہ ٹویٹ کیا کہ آخر اس قرارداد میں دوسری سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروپوں کو کیوں شامل نہیں کیا گیا اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سب ٹویٹ کر کے یہ باور کرایا کہ مجھے جس قسم کے مسئلے (تنگ کرنے ) کا سامنا رہا اسے ڈس کریڈٹ نہیں کیا جا رہا اس سلسلے میں فریحہ ادریس نے بھی رابطہ کیا۔ اس معاملے کو سلجھانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ تمام خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے لہذا اس سلسلے میں ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں وہ صحافی خواتین بھی شامل ہیں جو پہلے اس مشترکہ بیان میں شامل نہیں تھیں۔

تنزیلہ مظہر اور یشفین پہلے سے ہی اسی نوع کا ایک کیس لڑ رہی ہیں۔شومئی قسمت کہ یہ معاملہ اب ایک بڑے مقصد کی بجائے دو گروپوں کی لڑائی میں بدل گیا ہے اور دونوں گروپوں کو ایک دوسرے سے شکایات ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ طنز و مزاح جو کبھی ادب اور شاعری کا اہم جز ہوا کرتا تھا اب اگر ایک صحافی اس کو سوشل میڈیا پر کسی سیاستدان کے خلاف استعمال کرتا ہے تو اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاستدان سے جواب بھی آئے گا اور یہ جواب ضروری نہیں کہ صحافی کی حس مزاح سے میل کھاتا ہو ایسی صورتحال پر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ انہیں چھیڑا یا تنگ کیا جا رہا ہے ۔ آج کے دور میں جب کہ ٹوئٹر ابلاغ کا ایک بڑا ذریعہ ہے دنیا کے بڑے بڑے سربراہاں اپنے بیانات سب سے پہلے اسی پر جاری کرتے ہیں۔ یہاں باقاعدہ بیانیے کی لڑائیاں لڑی جاتی ہیں ۔ ایسی صورتحال میں صحافی خواتین وحضرات نہ صرف اپنے فولورز کو بڑھانے کے لیے سیاسی چٹکلوں غیر معیاری ری ٹویٹس کا سہارا لیتے ہیں بلکہ عالمی اور قومی ہر دو سطح پر جرنلسٹ غیر متعصب بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ اپنے فولورز کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے وہ ذمے داری اٹھائے بغیر دوسرے صارفین کو ری ٹویٹ کرتے ہیں اس طرز عمل سے ایڈیٹوریل پر زد پڑتی ہے ۔ میرے مطابق ڈیجیٹل میڈیا اور خاص کر ٹوئٹر پر سیاسی بیانیہ ایک غیر مقدس کھیل ہے۔ پاکستان کے بیشتر ٹی وی چینلز چھ چھ مہینے تنخواہیں ادا نہیں کرتے اور صحافی مجبور ہوتا ہے کہ وہ یو ٹیوب چینل کھول کر زمین آسمان کے قلابے ملائے کیونکہ سنسنی خیزی ہی دیکھی جاتی ہے تو پھر سوشل میڈیا پر آپ کو ایڈیٹوریل کہاں سے ملے گا۔(بشکریہ : ڈوئچے ویلے)

اپنا تبصرہ بھیجیں