’’مریم نواز کی اینکرز سے ملاقاتیں شروع۔۔‘‘ دبنگ تجزیہ کار نے اندرونی کہاںی بیان کر دی

’’مریم نواز کی اینکرز سے ملاقاتیں شروع۔۔‘‘ دبنگ تجزیہ کار نے اندرونی کہاںی بیان کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مریم نواز کا مختلف اینکروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع، مریم نواز ملاقاتوں کے ذریعے اپنے کس بیانیے کو بیچنے کی کوشش کر رہی ہیں؟ جانیے اندرونی کہانی صدیق جان کی زبانی۔ صحافی صدیق جان کا مریم نواز کی مختلف ٹی وی چینلز کے اینکروں سے ملاقات کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے

کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے ملک کے مختلف ٹی وی چینلز کے معروف اینکروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت کا کوئی لیڈر یا ممبر کسی صحافی کو ملاقات کے لئے بلاتا ہے تو صحافیوں کو جانا پڑتا ہے کیونکہ انہیں ملاقات کے دوران اس سیاسی جماعت کی بہت سی اندرونی خبروں کے بارے میں معلومات ملتی ہے۔ صدیق جان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی صحافی مریم نواز سے ملاقات کے بعد ان کا بیانیہ بنانا شروع کر دے گا تو وہ اخلاقی طور پر غلط ہوگا، اگر ملاقات کے بعد کوئی بھی صحافی مریم نواز کے سیاسی کردار یا نون لیگ کے سیاسی کردار کے بارے میں سوال نہیں اٹھائے گا تو وہ بھی ایک غلط چیز ہوگی، مریم نواز اب اپنے بیانیے کو صحافیوں کے ذریعے بیچنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کا بیانیہ تین سے چار طرح کا ہو سکتا ہے، اول یہ کہ مریم نواز اپنے سیاسی بیانیے پر ڈٹی ہوئی ہیں اور وہ ابھی اسی بیانیے کی بنا پر اپنا سیاسی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں، اگر وہ حصہ چاہتی ہیں تو انہیں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے کس نے روکا ہوا ہے؟ کی وہ آئینی میدان میں اپنا سیاسی کردار ادا کریں۔ صدیق جان کا کہنا تھا کہ جو جو صحافی مریم نواز سے ملاقات کرنے کے لیے جا رہے ہیں انہیں مریم نواز سے سب سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ پچھلے آٹھ، نو ماہ سے خاموش کیوں ہیں؟ آپ میڈیا پر آکر سچ کیوں نہیں بتا دیتیں کہ آپ کی خاموشی کی اصل وجہ کیا ہے؟ آپ کے والد صاحب آپ کو ملک کے قومی اداروں کے پاس گروی رکھوا کر گئے ہیں،

آپ قوم کو سچ بتا دیں کون سے معاملات طے کرکے آپ کو گروی رکھوا کر نواز شریف باہر گئے ہیں۔ مریم نواز اینکروں سے ملاقات کے بعد متوقع طور پر دو چیزیں بیچنا شروع ہوں گی، ایک یہ کہ اینکر عوام کو بتانا شروع ہوجائیں گے کہ میاں نواز شریف صاحب واقعی میں ہی بہت بیمار ہیں، لیکن بتایا نہیں جا رہا تو یہ بیانیہ ان کا کبھی بھی نہیں بکے گا۔ کیوں کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیماری کو لے کر عوام کو چونا لگایا گیا ہے جس میں میڈیا کا بھی کردار ہے کیونکہ میڈیا نے ایک ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ نواز شریف کی زندگی خطرے میں ہے اور ان کا باہر جانا لازمی ہے۔ صدیق جان کے مطابق مریم نواز اینکروں کے ذریعے دوسرا یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کریں گی کہ نواز شریف تو واپس آنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، تو مریم نواز سے ملنے والے اینکر کو یہ ان سے سوال کرنا چاہیے کہ ان کو وطن واپس آنے کے لئے کس نے روکا ہوا ہے؟ اگر مریم نواز یہ کہتی ہیں کہ آج بھی پارٹی میں نواز شریف کا بیانیہ چل رہا ہے تو یہ بھی جھوٹ ہوگا، بظاہر لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ نون لیگ کا آج بھی بیانیہ وہی ہے جو نواز شریف کا تھا، لیکن آج کی نون لیگ نواز شریف کے بیانیے سے ہٹ چکی ہے۔ صدیق جان کا کہنا تھا کہ اصل میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جیل میں نہیں رہنا چاہتے تھے، وہ جیل میں سخت پریشان رہتے تھے کہ کس طرح سے وہ جیل سے رہائی پاسکتے ہیں، تو انہوں نے اپنے ذاتی ڈاکٹر کے ساتھ مل کر بیماری کا ڈرامہ رچا کر اور میڈیا کے ذریعے افراتفری پھیلا کر حکومت پر دباؤ ڈال کر باہر جانے میں کامیاب ہوگئے، اب یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ اگر وہ واقعی بیمار ہیں تو اتنے دنوں سے وہ کسی بھی ہسپتال میں آج تک داخل کیوں نہیں ہوئے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں