ماضی کے قصے !!

ماضی کے قصے

لاہور (ویب ڈیسک) فلسطین کے بارے میں علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے بیانات اور تقریروں کا سب سے زیادہ ذکر تو میں نے کیا تھا۔ اگر اس جُرم کے ارتکاب پر کالم نگار میری ذات پر تنقید کر دیتے تو میں بُرا نہ مناتا لیکن اُنہوں نے مجھ پر تو نام لکھے بغیر طنز کیا

نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بانیان پاکستان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ…. ’’ہمارے پاس دلیل ختم ہو جاتی ہے تو ہم سفارتی اور سیاسی ایشوز میں بھی اسلام ڈال دیتے ہیں اور اگر اسلام فٹ نہ ہو رہا ہو تو ہم اس میں علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ ڈال کر دوسروں کو خاموش کر دیتے ہیں اور ہم یہ کارنامہ سرانجام دیتے وقت بھول جاتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے سانحہ جلیانوالہ باغ کے باوجود سر کا خطاب قبول کر لیا تھا اور قائداعظمؒ 1947ء میں اس ملکہ برطانیہ کے دستخطوں سے پاکستان کے گورنر جنرل بنے تھے جس نے فلسطین پر قبضہ کر رکھا تھا‘‘۔پہلے تو یہ عرض کر دوں کہ جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں اُردن کی حکومت کی درخواست پر فلسطینیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے واقعی بریگیڈیئر ضیاء الحق (بعد میں جنرل بن گئے) کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور اس واقعے کی میں خود کئی دفعہ مذمت کر چکا ہوں۔ لیکن ہمیں اپنی مرضی کی تاریخ پڑھانے والے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ 1967ء کی عرب اسرائیل لڑائی میں پاکستان ایئر فورس نے اُردن اور عراق کی فضائی حدود میں کئی اسرائیلی طیارے مار گرائے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل لڑائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان ایئر فورس کا ایک پورا اسکواڈرن شام بھیج دیا اس اسکواڈرن میں شامل پاکستانی جانبازوں نے صرف شام نہیں بلکہ مصر کی فضائی حدود میں بھی اسرائیلی طیارے مار گرائے اور پوری عرب دنیا سے داد پائی۔ کیا یہ عربوں کی عملی مدد نہیں تھی؟ 1974ء میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں یاسر عرفات کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا اور فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔ کیا یہ فلسطینیوں کی عملی مدد نہیں تھی؟ فیض احمد فیض نے اپنے بڑھاپے کے آخری چند سال پی ایل او کے ساتھ بیروت میں گزارے اور فلسطینیوں کے لئے نظمیں لکھیں۔ کیا یہ ایک ایسے پاکستانی کی فلسطین کے لئے عملی جدوجہد نہیں تھی جسے پاکستان میں غدار کہا گیا؟ اب آ جائیں علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ پر کئے جانے والے اعتراضات کی طرف۔ مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ بہت سے طاقتور اور با اثر لوگ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حق میں خود سامنے آ کر بولنے کی بجائے میڈیا کے کچھ لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ افسوس کہ اُنہیں علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے ذکر پر بہت غصہ آ جاتا ہے اور اب ان دو محترم شخصیات کو متنازعہ بنا کر اپنا سودا بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کچھ عرب بادشاہوں کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔ شکر ہے کہ سعودی عرب اور بحرین نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوتا اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان نہ آتا تو خدشہ تھا کہ پاکستان میں اسرائیل کی مخالفت کرنے والوں کو قید میں ڈال دیا جاتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں