یہ وظیفہ صرف تین دن کرنا ہے۔

یہ وظیفہ صرف تین دن کرنا ہے۔

اسلام علیکم صرف3 دن سورۃ کوثرکا یہ وظیفہ کرلیں سورة کوثر کا بہت ہی پاورفل وظیفہ آپ نے یہ وظیفہ صرف تین دن کرنا ہے۔ وظیفہ جمعرات جمعہ ہفتہ تین دن یہ وظیفہ کرنا ہے.انشا ء اللہ یہ وظیفہ کرنے سے آپ کی ہر جائز حاجت آ پ کی بڑی سے بڑی پریشانی ختم ہو جائے گی ۔اس وظیفہ کو شروع کرنے سے پہلے درود شریف لازم پڑھیں ۔آپ نے وظیفہ کس طرح کرنا ہے ۔ آپ نے سورة کوثر پڑھنی ہے ۔ سورة کوثر قرآن پاک کی سب سے چھوٹی سورت ہے ۔یہ سورت قرآن پاک کے 30 پارے میں

ہے ۔ اس عمل کو آپ نے ماہ رمضان میں صرف تین دن کرنا ہے آپ نے جمعرات کو یہ وظیفہ کرنا ہے ۔اور ہفتے کو یہ وظیفہ ختم کرنا ہے۔ تین دن آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے۔ جمعرات کے دن آپ نے نماز فجر کے بعداول اخر درود شریف پڑ ھ لیں اس کے بعد آپ 129 دفعہ سورة کو ثر کو پڑھ لیں ۔ صبح نماز فجر پڑھ کر اس وظیفے کو کریں پھر نماز عصر پڑھ کر اس وظیفے کو کریں ۔ پہلے اول آکر درود پڑھ لیں پھر درمیان میں 129 دفعہ سورة کوثر پڑھ لیں ۔اور ایسی طرح ہی آپ نے نمازعشا ء کے بعدایسی طرح روٹین سے آپ یہ وظیفہ کریں گے ۔ ایسی طرح تینوں دن آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ آپ کی کوئی بھی حاجت ہے کوئی بھی مقصد ہے اس کو زہن میں رکھ کے آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے ۔ وظیفہ کرتے وقت پورا دھیان آپ کا وظیفے پر ہونا چاہیے ۔دل میں کوئی بھی شک نہیںلے کے آنا پورا دھیان وظیفے پر رکھ کے آپ نے یہ وظیفہ کرنا ہے انشا ء اللہ اس وظیفے کو کرنے کے بعد آپ کی اللہ سے مانگی ہر دعا قبول ہوگی ۔اس وظیفے کو پڑھنے کی ہر بھائی بھن کو اجازت ہے ۔ اس کو پڑھنے کی کیسی سے بھی اجازت لینے کی ظرورت نہیں ہے ۔ تو دوستو اگر آپ کو آج کا یہ

عمل پسند آئے تو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ شئیر لازمی کریں جزاک اللہ

ویسے تو ہرصحابی سے آپﷺ کو پیار تھا ہر صحابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانثار ساتھی اور محبوب تھا لیکن بعض ایسے خوش نصیب بھی ہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاص تعلق اور محبت تھی ان میں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی ذات گرامی بھی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو تعلق خاطرتھا وہ بہت زیادہ تھا آپ داماد رسولﷺ تھے اور بے شمار مواقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے منسوب ایسے کئی فرمودات روایت کئے گئے ہیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے آپﷺ کی

ایک مشہور حدیث میں ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے گویا قیامت تک اور زمانوں تک یہ اصول وضع کر دیا گیا کہ جس کوخیرات علم درکار ہوگی اسے اس دروازے پر آنا ہوگا جس شخصیت کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم کا دروازہ قرار دے دیا تو پھر اس کی زہانت کا تو یہ عالم ہونا تھا کہ اس نے ممبر خطابت پر بیٹھ کے سلونی سلونی کی صدائیں بلند کرنی تھی یعنی پوچھ لو جو مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو اور میں اس کا تشفی جواب تمہیں عطا کروں بے شمار واقعات حضرت علی کی ذات گرامی سے منسوب ہیں کہ جب بظاہر پیچیدہ نظر آنے والے کسی مسئلے یا کسی سوال کا حل آپ نے اپنی ذہانت اور کمال علم کی بدولت چند لمحوں میں پیش کردیا آج ہم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی ذات گرامی سے منسوب ایک واقعہ آپ کے ساتھ شئیر کرنے جا رہے ہیں

جن سے آپ کے علم و فضل کے مرتبے کو سمجھنے میں مدد ملے گی دوستو ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں ایک لڑکے کو زنا کے جرم میں سزا دینے کے لیے لے جایا جارہا تھا واضح رہے کہ اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے سنگساری اور غیر شادی شدہ کے لیے 80 کوڑے بطور سزا ہے وہ لڑکا اونچی اونچی آواز سے پکار رہا تھا کہ میں بے گناہوں مجھے سزا نہ دی جائے اسی اثناء میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو حضرت علی نے اس لڑکے کی پکار سن کر سرکاری اہلکاروں کو رکنے کا حکم فرمایا اور لڑکے سے پوچھا کیا معاملا ہے لڑکے نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سےعرض کی

کہ جناب جس جرم کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے میں نے وہ جرم نہیں کیا ہے اور اس جرم کا مجھ پر الزام لگانے والی میری ماں ہے حضرت علی نے یہ سن کر سرکاری اہلکاروں کو وہی روکا اور کہا کہ اس لڑکے کی سزا فلحال روک دی جائے میں اس کیس کو دوبارہ سنوں گا اگر یہ لڑکا گنہگار ہوا تو تب سزا دینا دوسرے دن حضرت علی نے عورت اور لڑکے کو عدالت میں طلب فرما دیا حضرت علی نے الزام لگانے والی عورت سے دریافت کیا کہ کیا اس لڑکے نے تیرے ساتھ دست درازی کی ہے اور وہ جرم کیا ہے جس پر تو نے اسے سزا کے لیے پیش کیا تھا اس عورت نے اثبات میں سر ہلا دیا اور کہا کہ ہاں اس پر حضرت علی نے اپنا رخ لڑکے کی جانب موڑا اور اس سے پوچھا

کہ یہ عورت تیری کیا لگتی ہے اس نے کہا یہ عورت میری ماں ہے جس پر عورت نے اس لڑکے کو بیٹا ماننے سے انکار کردیا اس عورت کے انکار پر معاملہ گھمبیر ہوگیا فیصلہ سننے کے لیے لوگوں کا بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو چکا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تو اچھا ہے اے عورت میں اس لڑکے کا تیرے ساتھ اتنے حق کے مہر کے بدلے نکاح کرتا ہوں تو عورت چیخ اٹھی کے علی کیا کسی بیٹے کا ماں کے ساتھ نکاح ہو سکتا ہے حضرت علی نے جواب فرمایا کہ تیرے اس دعوے کا کیا مطلب ہے اس عورت نے جواب دیا ہے اے علی یہ لڑکا تو واقع میں میرا بیٹہ ہے اس پر سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ کیا کوئی بیٹہ اپنی ماں کے ساتھ دست درازی کر سکتا ہے عورت نے کہا کہ ہرگز نہیں تو حضرت علی نے پوچھا کہ تو نے اپنے بیٹے کے اوپر ایسا گھٹیا الزام کیوں لگایا عورت نے جواب دیا میری شادی ایک چھوٹی عمر میں امیر کبیر شخص ہوئی تھی اس کی بہت زیادہ جائداد تھی یہ بچہ ابھی کمسن دودھ پیتا ہی تھا کہ میرا خاوند مر گیا تو میرے بھائیوں نے مجھے کہا کہ یہ لڑکا تو اپنی باپ کی جائیداد کا وارث ہے اس کو کہیں چھوڑآؤ میں اسے کسی آبادی میں چھوڑ آئی ساری جائیداد میری اور بلآخر میرے بھائیوں کی ہوگی یہ لڑکا بڑا ہوا تو ماں کی محبت نے اس کے دل میں انگڑائی لی یہ ماں کو تلاش کرتا کرتا میرے تک پہنچ گیا میرے بھائیوں نے مجھے پھر ورغلایا کہ اس پر جھوٹا الزام لگا کر اس کی زندگی کا سانس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے تو میں نے اپنے ہی بیٹے پر جھوٹا الزام اپنے بھائیوں کی باتوں میں آکر لگا دیا اور دولت کی لالچ میں مجھے اندھا کردیا جبکہ حقیقت تو یہی ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے اور اس معاملے میں بالکل بے گناہ ہے جب اس واقع کا علم امیرالمومنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ اگر آج علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا اور دوستوں یو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ایک پیچیدہ مسئلہ کی گرہ کھول دیں اور ایک بے گناہ کو سزا ملنے سے بچا

اپنا تبصرہ بھیجیں