گئی بھینس پانی میں۔!! بحرہ روم کا تنازع شدت اختیار کرگیا، بڑے ملک نے ترکی کو مذاکرات سے صاف انکار کر دیا، طیب اردگان بھی حیرت زدہ رہ گئے

گئی بھینس پانی میں۔!! بحرہ روم کا تنازع شدت اختیار کرگیا، بڑے ملک نے ترکی کو مذاکرات سے صاف انکار کر دیا، طیب اردگان بھی حیرت زدہ رہ گئے

عمان (ویب ڈیسک) یونان نے مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی پر ترکی کے ساتھ بات چیت کے آغاز سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ یونانی وزارت خارجہ نے جمعے کو کہا ہے کہ یونان اور ترکی نے مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو کی ثالثی کے ذریعے کشیدگی کو دور کرنے

کے لیے نام نہاد تکنیکی بات چیت پر اتفاق کیا تھا مگر فی الحال کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچا گیا۔ ایتھنز حکومت کے مطابق کسی نتیجے تک پہنچنے سے متعلق اعلان حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ دوسری جانب رکی کی جانب سے بحیرہ روم میں توانائی کے ذخائر کی تلاش کی وجہ سے خطے میں خراب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر ترکی اور یونان نے کشیدگی میں اضافے کے بعد فوری اپنی فوجوں کو الرٹ کر دیا ہے۔ترکی کی بحریہ الرٹ پر ہے اور سمندری حدود میں مسلسل گشت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترک فوج کےہیلی کاپٹرز کی جانب سے بھی پروازیں کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب یونان نے بھی اپنی فوج کو الرٹ کر دیا ہے۔ یونان نے کہا ہے کہ وہ ترکی کی طرف سے دبائو اور بلیک میلنگ کی پالیسی کو قبول نہیں کرے گا۔ یونانی حکومت ملک کی خود مختاری کا بھرپور دفاع کرے گی۔یونانی وزیر اعظم نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ترکی ہمارے آبی وسائل کو دھونس کے ذریعے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے ترکی کی طرف سے قبرص اور یونان کے درمیان سمندری علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے تحقیقاتی سمندری مشن بھیجنے کے اعلان کی مذمت کی۔ اجلاس میں یونانی وزیر دفاع اور وزیرخارجہ بھی موجود تھے۔ یونانی وزارت خارجہ نے ترکی پر زور دیا کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں سے باز آئے اور خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے گریز کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایتھنز ترکی کی طرف سے بلیک میلنگ کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا بلکہ یونان کی خود مختاری کا بھرپور دفاع کیا جائیگا۔ اس تمام صورتحال میں ترکی کی قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں