مولوی خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے لیے چھاپے ۔۔۔ مگر کس الزام میں ؟ تازہ ترین اطلاعات

مولوی خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے لیے چھاپے ۔۔۔ مگر کس الزام میں ؟ تازہ ترین اطلاعات

لاہور(ویب ڈیسک)تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے لئے پولیس نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تاہم رات گئے تک پولیس خادم حسین رضوی کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ۔خادم حسین رضوی پر قابل اعتراض تقریر کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے ملتان روڈ پر ان کی رہائش گاہ

پر شام کے وقت چھاپہ مارا اور خادم حسین رضوی کی گرفتاری کی کوشش کی اس سلسلے میں پولیس نے گھر داخل ہونے کے لئے سیڑھیاں بھی لگائیں ۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان تین بڑی شوگر ملز سے 74 کروڑ68 لاکھ روپے وصول کرنے میں ناکام ہوگئی جس پر پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے معاملہ نیب کو بھجواتے ہوئے تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق 2013-14 کے دوران ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 17 ہزار 460 میٹرک ٹن چینی مختلف شوگر ملزم سے خریدی اور انہیں اس کی مکمل ادائیگی بھی کر دی جوکہ 90 کروڑ 27 لاکھ روپے تھی۔یہ تمام رقم پیشگی ادا کی گئی مگر ان شوگر ملز نے 15 ہزار145 میٹرک ٹن چینی سپلائی نہیں کی جس کی مالیت 79 کروڑ 20 لاکھ تھی اس پر ٹی سی پی نے 4 کروڑ51 لاکھ روپے کی ان شوگر ملز کی بینک گارنٹی ان کیش کروا لی جبکہ 47 کروڑ68 لاکھ روپے ان شوگرملز سے آج تک وصول نہیں کئے جا سکے۔آڈیٹر جنرل نے کہا ہے کہ ٹی سی پی اپنے مفادات کے تحفظ میں بری طرح ناکام رہا یہ معاملہ ٹی سی پی کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کیا تا کہ باقی ماندہ چینی ان شوگر ملز سے وصول کی جا سکے مگر اس میں ناکام رہے اور نہ ہی باقی ماندہ رقم کیش کروائی جا سکی جس پر یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیا گیا اور ابھی تک یہ معاملہ نیب کے پاس زیر التوا ہے حالانکہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔انتظامیہ نے یہ بھی جواب دیا کہ عبد اللہ شاہ شوگر مل،غازی،مکہ اور حق باہو شوگر مل سے یہ واجبات وصول کئے جانے ہیں،کیونکہ یہ تینوں شوگر ملز ڈیفالٹ ہو چکی ہیں جب شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی گئی تو وہ عدالت چلی گئیں اور اب یہ معاملہ عدالت میں زیر التواء ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں