حکومت نے محسن داوڑ کو صوبے سے بے دخل کر کے واپس اسلام آباد کیوں بھجوایا؟ ناقابل یقین خبر

حکومت نے محسن داوڑ کو صوبے سے بے دخل کر کے واپس اسلام آباد کیوں بھجوایا؟ ناقابل یقین خبر

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان حکومت نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو بے دخل کرکے انہیں واپس اسلام آباد بھیج دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ جمعے کو محسن داوڑ بلوچستان کے دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے، لیکن انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایئر پورٹ سے

باہر نکلنے سے پہلے سے سرکاری تحویل میں لے کر ایک گیسٹ ہاؤس میں منتقل کردیا، جس کے بعد انہیں صوبے سے بے دخل کرکے واپس اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستا ن نے29 جولائی کو محسن داوڑ کے صوبے میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی، ان کو بے دخل کیے جانے سے متعلق وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے بی بی سی کو بتایا کہ سیکیورٹی خدشات اور محسن داوڑ کے تحفظ کے پیش نظر انہیں سرکاری تحویل میں لیا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ صاحب کو انکے تحفظ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے محفوظ مقام پہ منتقل کیاہے۔ آج کوئٹہ میں بم دھماکے کے بعد سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔ جناب محسن داوڑ ہمارے محترم مہمان ہیں انکی سیکورٹی ہماری ذمہ داری ہے۔ عوام بےبنیاد پروپیگنڈہ پہ کان نہ دھریں ۔اسلام آباد پہنچنے پر ایئرپورٹ پر بی بی سی نمائندے سے بات کرتے ہوئے محسن داوڑ نے کہا کہ میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوس ناک، غیر انسانی اور غیر جمہوری ہے، کوئٹہ ایئر پورٹ پر ایک نوٹس دکھایا گیا جس کے مطابق میرے بلوچستان میں داخلے پر پابندی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جماعت کے رہنماؤں کے ساتھ بلوچستا ن میں ایسا رویہ پہلی بار نہیں اپنایا گیا، ارمان لونی کے قتل کے بعد سے ہمیں بلوچستان آنے سے روکا جارہا ہے، یہاں جمہوریت کا صرف دعویٰ کیا جاتا ہے ، درحقیقت صورتحال مارشل لاء سے بھی بدتر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں