حالات کشیدہ : یکم نومبر سے تمام امریکی ریاستوں کو کس کام کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ؟ ناقابل یقین تفصیلات

حالات کشیدہ : یکم نومبر سے تمام امریکی ریاستوں کو کس کام کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ؟ ناقابل یقین تفصیلات

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ میں صحتِ عامہ سے متعلق امور کے نگران ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے ملک کی تمام 50 ریاستوں کے حکام سے کہا ہے کہ وہ یکم نومبر سے کورونا وائرس کی ویکسین کی تقسیم شروع کرنے کی تیاری کریں۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سی ڈی سی کی جانب

سے ریاستوں کو یہ گائیڈ لائنز 27 اگست کو جاری کی گئی تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ڈی سی کی جانب سے ویکسین کی تقسیم سے متعلق جس تاریخ کا انتخاب کیا گیا ہے اس کے دو روز بعد امریکہ میں صدارتی انتخاب ہونا ہے۔ریاستوں کے گورنرز کو ارسال کردہ چار صفحات پر مشتمل میمو میں سی ڈی سی نے صحت کے مقامی محکموں اور حکام سے کہا ہے کہ وہ ویکسینیشن شروع کرنے سے متعلق اپنے منصوبوں کا ابتدائی خاکہ یکم اکتوبر تک تیار کرلیں۔خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق سی ڈی سی نے رابطہ کرنے پر مذکورہ میمو پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے امن معاہدے کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں اسرائیل، فلسطین تنازع پر بات ہوئی ہے. شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات اس وقت تک معمول پر نہیں آئیں گے جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہ ہو جائے‘ سعودی فرمانروا نے امریکی صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب فلسطین کے مسئلے کا منصفانہ اور مستقل حل چاہتا ہے.برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی فرماروا نے کہا کہ تنازع کے حل کی یہ شرط سعودی مملکت کے پیش کردہ عرب امن منصوبے کا نقطہ آغاز ہو گا سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان فون پر یہ رابطہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے کہ جب گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے سفارتی روابط قائم کرنے والا تیسرا عرب ملک بن گیا تھا اس سے قبل مصر اور اردن کے اسرائیل سے ریاستی تعلقات ہیں.شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ سعودی عرب امن کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے دوسری طرف صدر ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان پروازوں کے لیے سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر سعودی عرب کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے خطے میں مسئلہ فلسطین کے حل اور امن کے حصول کی کاوش قرار دیا ہے. سعودی عرب نے 2002 میں عرب امن منصوبے کی تجویز دی تھی اس منصوبے میں موجود پیشکش کے تحت اگر اسرائیل فلسطین کو ریاستی حیثیت دیتا ہے اور 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضے میں لی گئی زمین سے مکمل انخلا کرتا ہے تو اس کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں