بریکنگ نیوز : پاکستان میں ایک اور سنگین ترین بحران پیدا ہونے کی وارننگ جاری

بریکنگ نیوز : پاکستان میں ایک اور سنگین ترین بحران پیدا ہونے کی وارننگ جاری

حکومت نے ملک میں سنگین گیس بحران کی وارننگ جاری کردی – وفاقی وزیر تونائی عمر ایوب خان اورمعاون خصوصی پیٹرولیم ندیم بابر نے کہاکہ درآمدی آر ایل این جی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،سردیوں میں گیس کا سنگین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے-اسلام آباد میں میڈیا سے

غیر رسمی گفتگو میں انہوں نےکہاکہ تمام صوبوں کے ساتھ آرٹیکل158پر اتفاق رائے پیداکرنے کی کوشش کی جائے گی-پنجاب کی طرح باقی تینوں صوبے بھی سنگین گیس بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں آئندہ سردیوں سے پورے ملک میں گیس کی قلت ہوگی- درآمدی آر ایل این جی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں – ندیم بابر نے کہا کہ گیس درآمد نہ کرنے پر ملک میں گیس بحران سنگین ہوجائے گا -ڈیڑھ سال بعد سندھ میں,ڈھائی سال بعد خیبر پختونخوا اور چار سال بعد بلوچستان میں گیس کی قلت ہوجائے گی-دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حقوقِ کراچی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کو مفاد پرست سیاسی جماعتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا،گیارہ سو ارب کے پیکج کا اعلان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حقوق کراچی تحریک کے تحت 27 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر تاریخ ساز مارچ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں نے حکومتی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے، 1100ارب روپے کا پیکج سیاسی شعبدہ بازی اور پوائنٹ اسکورنگ ہے، وفاق کا تو کُل ترقیاتی بجٹ ہی 650 ارب کا ہے جس میں کراچی کے لیے 18 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اتنے بڑے عہدے پر بیٹھنے والے قوم کے سامنے بڑے بڑے جھوٹ بولتے رہے، مسائل کے حل کے لیے با اختیار شہری حکومت قائم کی جائے،کراچی کومیگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیا جائے،وسائل کی درست اور منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی کاموں کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے درست مردم شماری کرائی جائے۔کوٹہ سسٹم ختم کر کے میرٹ کا نظام وضع کیا جائے،700یونین کمیٹیاں بناکر شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں تاکہ شہر کی حقیقی قیادت کو سامنے آنے کا موقع مل سکے،کراچی کو آفت زدہ شہر قرار دینے کے بعد بارش سے متاثرہ اورمصیبت زدہ شہریوں اورتاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور فوری طور پر تمام یوٹیلیٹی بلز معاف کیے جائیں۔ک

اپنا تبصرہ بھیجیں