ایک ایمان تازہ کر دینے والی تحریر

ایک ایمان تازہ کر دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) ابھی پاکستان کو دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئے اٹھارہ سال ہوئے تھے کہ پاکستان کے دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر بھرپور یلغار کر دی اور داتا حضور ؒکی نگری لاہور میں جائے پینے کی خواہش نے دشمن کو جہنم کا راستہ دکھا دیا اور 800ہندوستانی جہنم کا ایندھن بن گئے۔

نامور کالم نگار چوہدری عبدالغفور اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی غیرتِ ایمانی سے سرشار آواز ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن پر اپنے قوم اور پاک فوج کو پیغام دے رہی تھی۔اس لڑائی میں بری اور بحری فوج کا کردار بہت نمایاں رہا ۔ اس پر یشونت رائو ڈیفنس منسٹر انڈیا کہتا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل وی کے سنگھ نے بتایا کہ جب وہ امرتسر روڈپر پہنچا تو دیکھا کہ بہت سی گاڑیاں جل رہی ہیں کچھ جل چکیں اور کچھ بکتر بند گاڑیوں کو ابھی تک آگ لگی ہوئی تھی ۔ ہمارے بہت سے فوجیوں کی بے جان جسم پڑے ہوئے تھے اور باقی اپنی گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہو چکے تھے۔ سکوارڈن لیڈر سید سجاد حیدر نے جب دیکھا کہ امرتسر واہگہ روڈ بھارتی ٹینکوں توپوں سے بھری پڑی ہے تو آپ نے اپنے ساتھیوں فلائٹ لیفٹننٹ محمد اکرم ، دلاور حسین ، غنی اکبر اور فلائنگ آفیسر محمد ارشد چوھدری اور خالد لطیف کے ہمراہ پاکستان کی طرف آنیوالوں کو اگلے جہان کی راہ دکھائی۔ اس لڑائی میں F-104طیارے کا بہت اہم رول تھا بلکہ جب عباس مرزا F-104کو لیکر بھارتی طیاروں پر قہر بن کر ٹوٹتے تو آج بھی برج پال سکوارڈن لیڈر کی آواز کی ریکارڈنگ موجود ہے جو F-104کو دیکھ کر کہتا ہے “بھج جائو اے 104جے ” بعد ازاں حکیم اللہ خان F-104لے کر جاتا ہے اور اسی انڈین سکوارڈن لیڈر کو پسرور کے رن وے پر اُتار لیتا ہے ۔ ائیر مارشل نورخان ہلواڑہ، پٹھان کوٹ ، اعظم پور، جام پور کو تباہ کرنے کیلئے ٹاسک دیتے ہیں تو کمانڈر سید سجاد حیدر خوشبو کی شیشی نکال کر بالٹی میں انڈیل دیتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کو سفید تولیے خوشبو میں بھگو کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں اس پانی کو جسم پر لگا لو یا وضو کر لو کہ یہ ہمارا آخری مشن ہو سکتا ہے جب ہم اللہ کے حضور پیش ہوں تو ہمیں خوشبو میں بھیگا ہونا چاہیے۔ “

اپنا تبصرہ بھیجیں