معروف انگریزی ادیب چارلس ڈکنز نے اس اعتراض پر کیا انمول بات کہی تھی ؟ آپ بھی جانیے

معروف انگریزی ادیب چارلس ڈکنز نے اس اعتراض پر کیا انمول بات کہی تھی ؟ آپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کربلا کا واقعہ دو شہزادوں کی لڑائی تھی۔یہ اسلام یا اقدار کی نہیں بلکہ اقتدار کی لڑائی تھی۔چارلس ڈکن نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے لکھا:”اگر امام حسین محض اپنی خواہشات کے لیے لڑے تھے (جیساکہ باز لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسلام کی نہیں بلکہ اقتدار کی لڑائی تھی)

تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ اپنی بیوی، اپنی بہن اور بچوں کو کیوں ساتھ لے کر گئے تھے؟اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان کی یہ قربانی صرف اور صرف اسلام کی خاطر تھی“نامور مضمون نگار کوثر عباس اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔دنیا کا یہ اصول رہا ہے کہ اکثریت کو حق بجانب سمجھتی رہی ہے۔جدید جمہوریت کا بھی یہی اصول ہے کہ اقتدار اسی کے حوالے کیا جاتا ہے جسے اکثریت منتخب کرے۔امام حسین نے کربلا میں اس انداز فکر کو بدل دیااور ثابت کیا جیت کا معیار اکثریت نہیں بلکہ حق اور سچ ہے۔ انسان کو اکثریت اور طاقتورکا نہیں بلکہ حق کا ساتھ دینا چاہیے۔مشہورسکاٹش مؤرخ تھامس کارلائل نے کہا: ”کربلا کے اندوہناک واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ امام حسینؓ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ کے سچے پیروکار تھے جنہوں نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ عددی برتری کی اس وقت کوئی اہمیت نہیں رہتی جب اس کا سامنا سچ سے ہوتا ہے“جب بھی کوئی لڑائی ختم ہوتی ہے تو اپنے پیچھے تباہی کا ایک دردناک باب چھوڑ جاتی ہے لیکن امام حسین نے کربلا میں ایک ایسی داستان رقم کی کہ دنیا نے انہیں حکومت وقت کے مقابلے میں خروج کرنے والے کی بجائے ایک ٹرینڈ سیٹر کی حیثیت سے یاد رکھا جس نے دنیا کے ہر طبقے سے داد اور ہمدردی بھی وصول کی اور ان کے لیے ایسے سبق بھی چھوڑے جو کسی بھی مشکل میں مشعل راہ ہیں۔ انتھونی بارا کہتا ہے: ”سانحہ کربلا میں امام حسین کی قربانی نے انسانیت سے جس قدر ہمدردی اور(صبر،شجاعت اور استقامت کے باب میں)توصیف حاصل کی اور انسانیت کے لیے سبق چھوڑے،

دنیا کی قدیم اور جدید لڑائیوں و معرکوں کی تاریخ میں کوئی دوسری ایسی نظیر نہیں ملتی“یزید اور امام حسینؓ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا میں دو طرح کے بادشاہ ہوتے ہیں،دلوں پر حکمرانی کرنے والے اور جسموں پر حکمرانی کرنے والے۔تلوار اور طاقت کے زور پر جسموں کو جھکایا جا سکتا ہے لیکن دلوں پر حکمرانی نہیں کی جا سکتی۔ یزید چند دن فانی جسم پر حکومت کر کے چل بسا لیکن حسینؓ آج بھی زندہے کیونکہ دلوں پر حکمرانی کرنے والے مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ڈاکٹر رادھا کرشنا مرقوم ہے کہ:”اگرچہ امام حسینؓ نے اپنی زندگی سالوں پہلے (اللہ تعالیٰ کو) دی تھی لیکن ان کی لافانی روح آج بھی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتی ہے“اگرچہ تاریخ ایسے شواہد پیش کرنے سے قاصر ہے لیکن پھر بھی مستشرقین کی طرف سے یہ پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر بھیلا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی مضبوط عمارت کی بنیادیں اعلیٰ اخلاق اور عظیم قربانیوں پر استوار ہیں۔مہاتما گاندھی اس طرف اشارہ کرتے ہوئے رقمطراز ہے کہ:”میرا ایمان ہے کہ اسلام کی شاندار ترقی اس کے پیروکاروں کی تلوار کی بدولت نہیں بلکہ امام حسین کی (طرح کی)عظیم قربانی کی مرہون منت ہے“دنیا ازل سے ہتھیاروں اور سپاہ پر بھروسا کرتی رہی ہے۔آج بھی ہر ملک فوج اور ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کا متمنی ہے اور اسی کو بقا کی ضمانت سمجھتا ہے لیکن امام حسینؓ نے محض چند تلواروں اور نفوس سے یزیدیت کو فنا کر کے یہ پیغام دیا کہ بقا کا انحصار کسی اور چیز کا متقاضی ہے۔رابندر ناتھ ٹیگور کا کہنا ہے: ”انصاف اور سچ کو زندہ رکھنا ہو تو اس کے لیے فوج اور ہتھیاروں پر انحصار کرنے کی بجائے زندگی کی قربانی دینی پڑتی ہے اور یہی بات امام حسین نے دنیا کو بتائی“جب بھی دو مذاہب یا اقوام میں لڑائی ہوتی ہے تو ایک کا ہیرو، دوسرے کا ولن اور دوسرے کا ہیرو پہلے کا ولن ہوتا ہے۔دنیا میں کتنی ایسی شخصیات ہیں جنہیں مخالف بھی ہیرو مانتا ہو؟ اگر اس لحاظ سے تلاش کی جائے تو ایک امام حسینؓ ہی ہیں جن کی قربانی کو ہر مکتبہ فکر اپنے لیے باعث فخر سمجھتا ہے۔شاید کسی نے ٹھیک ہی کہا تھا ”ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ“۔اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ امام حسینؓ نے جن عظیم مقاصد کی خاطر قربانی دی تھی وہ ہر قوم کے لیے حرزجاں ہیں۔ڈاکٹر پرشاد کہتا ہے:”امام حسین کی قربانی کسی ایک قوم یا ملک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ تمام انسانیت کا مشترکہ ثقافتی ورثہ ہے“

اپنا تبصرہ بھیجیں