آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسین کے ٹرائل روک دئیے گئے، اس سے مریضوں پر کیا خطرناک اثرات ہو رہے تھے؟ جانیے

آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسین کے ٹرائل روک دئیے گئے، اس سے مریضوں پر کیا خطرناک اثرات ہو رہے تھے؟ جانیے

لندن(ویب ڈیسک) آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کورونا وائرس کی ایک ویکسین تیار کی تھی اور امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ آئندہ چند مہینوں یہ ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو گی لیکن اب اس کے متعلق ایک بری خبر آ گئی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی اور برطانوی

فارماسیوٹیکل کمپنی ایسترازینیکا کے ماہرین کی زیرنگرانی اس ویکسین کے تجربات جاری تھے کہ اس دوران ایک رضاکار میں اس دوا نے انتہائی خطرناک ری ایکشن کر دیا ہے جس کے بعد تجربات عارضی طور پر روک دیئے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس دوا کے رضاکار پر ظاہر ہونے والی منفی اثر کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس مریض کو ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑے گی یا اس سائیڈ ایفیکٹ سے اس کی زندگی کو خطرہ ہے یا نہیں؟ اس رضاکار کے متعلق توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائے گا لیکن اس مریض کی شناخت کے بارے میں اب تک کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ یہ بھی پتا نہیں چل سکا کہ تجربات روکنے کا فیصلہ ایسترازینیکا کی طرف سے کیا گیا یا آکسفورڈ کے ماہرین کی طرف سے۔اب اس ویکسین کے متعلق توقع کی جا رہی ہے کہ یہ 2021ءکے پہلے چند مہینوں میں مارکیٹ میں آ جائے گی۔ دوسری طرف ایک خبر کے مطابق قومی احتساب بیوروکے چیئرمین جسٹس(ر) جاویداقبال نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں بدعنوانی کے الزامات پر 6انکوائریوں اور 4 انویسٹی گیشنز کی منظوری دے دی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں چیئرمین نیب کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا جس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکانٹیبلٹی نیب، ڈی جی آپریشن نیب اور ڈی جی نیب راولپنڈی شریک ہوئے جب کہ ڈی جی نیب خیبرپختونخوا، ڈی جی نیب سکھر اور ڈی جی نیب کراچی نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔نیب اعلامیے کے مطابق اجلاس میں چیئرمین نیب نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں 4الگ الگ تحقیقات اور6انکوائریوں سمیت ٹیکسٹ بورڈ خیبر پختونخوا کے افسران اور دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی۔اجلاس میں پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ(پی پی ایل)کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر، چیف ایگزیکٹو آفیسر ،رکن بورڈ آف ڈائریکٹرز اور دیگر کےخلاف ریفرنس دائرکرنے کی بھی منظوری دی گئی، ملزمان پر تیل و گیس کی تلاش کےٹھیکےمیں بدعنوانی کاالزام ہے ۔اعلامیے کے مطابق محکمہ تعلیم اورخواندگی حکومت سندھ کے افسران واہلکاروں کیخلاف بھی تحقیقات کی منظوری دی گئی۔اس موقع پر چیئرمین نیب نے کہا کہ مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے،نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمے اور کرپشن فری پاکستان کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے، نیب کی اولین ترجیح میگاکرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب نے 468ارب روپے برآمدکرکے قومی خزانے میں جمع کرائے، نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا ہیجو نیب کے لیے اعزازکی بات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں