عثمان بُزدار نے سی سی پی او کے حوالے سے کیا قدم اُٹھا لیا؟ سینئر اینکر پرسن کامران خان بھی سوچنے پر مجبور

عثمان بُزدار نے سی سی پی او کے حوالے سے کیا قدم اُٹھا لیا؟ سینئر اینکر پرسن کامران خان بھی سوچنے پر مجبور

موٹروے پر پیش آنے والے دلخراش واقعے پر سی سی پی او لاہور کا بیان متنازعہ حیثیت اختیار کر چکا ہے۔عوام اس بات پر مشتعل ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ ملزمان کو پکڑنے کی بجائے خاتون کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔لیکن افسوس کی بات تو یہ

ہے کہ حکومتی وزراء بھی سی سی پی او لاہور کے بیان کی مذمت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے صحافی نے تین بار اس متعلق سوال کیا لیکن انہوں نے ایک بار بھی بھی اس کی مذمت نہ کی۔عثمان بزار ہر سوال کے جواب میں کہتے رہے کہ اس واقعے کی ذمہ داری ہم پر ہے اور ہم ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔پنجاب کے اندر جو بھی واقعہ ہوا ہے،اس کے ہم نے ملزمان ٹریس کیے۔عثمان بزدار سے صحافی نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا آپ سی سی پی او لاہور کے متنازعہ بیان پر کچھ کہنا چاہیں گے۔لیکن وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بس یہی کہتے رہے کہ ہم ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔ہم نے اس واقعے پر کمیٹی بنا دی ہے جو اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہم تمام پہلو زیر غور لائیں گے۔عثمان بزدار کے انٹرویو کی یہ ویڈیو آپ بھی ملاحظہ کیجئے۔

دوسری جانب اس دلخراش واقعہ پر پولیس کی طرف سے کریمنل رکارڈ کے حامل 70افراد کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا۔ایس ایس پی ذیشان اصغر نے بتایا ہے کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق تمام افراد جائے وقوعہ کے اطراف کے رہائشی ہیں، فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس کے بعد کافی چیزیں واضح ہوچکی ہیں جبکہ اس چیز کے بھی شواہد ملے ہیں کہ ملزمان واردات کیلئے پیدل آئے اور پیدل ہی واپس گئے، کھوجی کی مدد سے ملزمان کے فٹ پرنٹس کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں