عاصم باجوہ سے متعلق حقائق سامنے آنا شروع! احمد نورانی کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟ ناقابلِ یقین انکشافات

عاصم باجوہ سے متعلق حقائق سامنے آنا شروع! احمد نورانی کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟ ناقابلِ یقین انکشافات

آئی ایس پی آر کے سابق ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کی مبینہ کرپشن کی کہانی پر مبنی صحافی احمد نورانی کی رپورٹ سے متعلق انکشافات سامنے آگئے ہیں۔پاکستان کی ایک اور صحافی انعم شیخ نے اس حوالے سے ایک تحقیقاتی ویڈیو میں احمد نورانی کی رپورٹ کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا، انہوں نے اس

ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عاصم باجوہ کی کرپشن کی کہانی سے متعلق تمام حقائق منظر عام پر آگئے ہیں، یہ کہانی کہاں سے آئی اور پاک فوج اور دیگر اداروں کو بدنام کرنے کی یہ سازش کس نے کی، یہ ویڈیو دیکھیں اور عوام سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کریں۔3 حصوں میں پیش کی گئی اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ احمد نورانی کی طرف سے فیکٹ فوکس پر شائع کی گئی عاصم سلیم باجوہ کی کرپشن سے متعلق رپورٹ کی تیاری مارچ سے چل رہی تھی، اس رپورٹ کے شائع ہونے سے پہلے سوشل میڈیا پر اس کیلئے ہوا بنائی گئی، 25 اپریل 2020 کو فیس بک پر حقائق ٹی وی کے نام کا ایک پیج بنایا گیا اور اسی نام کا ایک ٹویٹر ہینڈل بھی بن گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس فیس بک پیج اور ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلانے کی ذمہ داری احمد نورانی کے دوست اور جنگ کے صحافی عثمان منظور کو سونپی جاتی ہے، 30 اگست 2020 کو اس پیج کا نام حقائق ٹی وی سے بدل کر فیکٹ فوکس رکھ دیا جاتا ہے، اور مبشر علی زیدی جو پاکستانی اداروں خصوصا پاک فوج سے متعلق کینہ رکھتا ہے اور امریکہ میں قیام پزیر ہے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ احمد نورانی کو دے دیتا ہے اور اسی اکاؤنٹ سے جنرل عاصم باجوہ والی خبر کو سوشل میڈیا پر پھیلایا جاتا ہے۔احمد نورانی نے اس موضوع پر کام اس وقت شروع کیا جب انہیں مارچ 2020 میں الفریڈ فرینڈلی نامی اسکالر شپ پر امریکہ جانے کا موقع ملتا ہے، الفریڈ فرینڈلی یہ ایجنسی دنیا بھر سے ایسے صحافیوں کو ٹریننگ دیتی ہے جو اپنے ملک، ریاست اور اداروں کے خلاف کام کرتے ہیں، احمد نورانی جس بیج

میں یہ ٹریننگ لیتے ہیں اس میں ان کے علاوہ 5 مزید صحافی ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق بھارت سے ہے۔الفریڈ فرینڈلی کی اس ایجنسی کو دنیا بھر سے فنڈنگ ہوتی ہے ان فنڈنگ کرنے والی تنظیموں میں سے ایک تنظیم بھارتی ہے، اس ادارے کا نام منٹ ہے، یہ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک ذیلی تنظیم ہے، احمد نورانی کی الفریڈ فرینڈلی ٹریننگ کے دوران اپنے بیج میٹ ابھیشیک سے ملاقات ہوئی، ابھیشیک ایک بزنس رپورٹر ہیں اور بھارتی اخبار بزنس اسٹینڈرڈ کیلئے لکھتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ احمد نورانی کا اپنا ذاتی تجربہ مالی معاملات میں صفر رہا ہے، وہ ایک سیاسی رپورٹر ہیں، اور عاصم سلیم باجوہ پر لگائے جانے والے ان کے الزامات کی بنیاد بھارتی میجر گورو آریا کی ایک ویڈیو تھی ، اسی لیے عاصم سلیم باجوہ نے ابھیشیک سے مدد لی جس نے انہیں پاپا جونز کے مالی کاغذات تک رسائی، غلط مالی ایولوایشن ، دستاویزات کی تصدیق اور ٹیکس کی تفصیلات وغیرہ حاصل کرنے میں معاونت فراہم کی۔اس کےعلاوہ اس پوری سازش میں ایک اور کردار بہت اہم ہے جس کا نام ابھے کمار ہے جو بھارت کی ایک بہت بڑی کاروباری شخصیت ہے، اور بی جے پی سے قریبی تعلقات بھی رکھتا ہے، ابھے کمار امریکہ کی کمپنی الفریڈ فرینڈلی کی ہر سال بھاری مالی معاونت کرتا ہے اور یہ اب تک الفریڈ فرینڈلی کو ایک لاکھ امریکی ڈالر کی امداد دے چکا ہے، اور ابھے کمار یہ خفیہ رہ کر نہیں کرتا بلکہ اس کی تشہیر بھی کرتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عاصم باجوہ نے خود پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیدیا ہے، اب یہ پاکستانی عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسے پاک فوج کے ایک افسر پر اعتبار کرنا ہے یا ایک ایسی کہانی پر جس کے تمام کردار مشکوک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں