بریکنگ نیوز: پاکستان کے نامور اور سینئر ترین صحافی پر غداری کا مقدمہ دائر۔۔۔ انتہائی تشویشناک خبر آگئی

بریکنگ نیوز: پاکستان کے نامور اور سینئر ترین صحافی پر غداری کا مقدمہ دائر۔۔۔ انتہائی تشویشناک خبر آگئی

جہلم / اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی و چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے خلاف ضلع جہلم میں غداری کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ابصار عالم کے خلاف مقدمہ انصاف لائرز فورم کے صدر چوہدری نوید احمد ایڈووکیٹ کی مدعیت میں تھانہ دینہ میں درج کیا گیا ہے ۔ درخواست گزار نے ابصار عالم پر افواج پاکستان

اور وزیر اعظم کے خلاف ٹویٹس کرنے کو بنیاد بنایا ہے اور ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی ہے۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ ابصار عالم جو کہ سابقہ چیئرمین پیمرا ہے اور پیشہ صحافت سے منسلک ہے نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف انتہائی گھٹیا لینگویج استعمال کی ہے جو کہ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ ابصار عالم وطن عزیز کے سایہ میں رہتا ہے اور اسی وطن عزیز کی جڑوں کو دشمنوں کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی غرض سے کھوکھلا کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ افواج پاکستان کو ہمیشہ سلامت تاقیامت رکھے۔ابصار عالم کے خلاف آئین کی دفعات 124، 131، 499، 505 اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض دفعات ایسی ہیں جو جمعہ کے روز کراچی سے گرفتار ہونے والے صحافی بلال فاروقی کے خلاف درج ہونے والے مقدمے میں بھی شامل ہیں۔بلال فاروقی کے خلاف درج ہونے والے مقدمے کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے سماجی کارکن اور معروف وکیل جبران ناصر نے کہا تھا کہ بلال فاروقی کے خلاف ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 500 اور 505 کے تحت درج کی گئی ہے۔ یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ دفعہ 505 کے تحت ایف آئی آر صوبائی ، وفاقی یا مجاز افسر کی اجازت کے بغیر درج نہیں کی جاسکتی۔ یہ میڈیا کو دبانے کی ایک اور مثال ہے۔واضح رہے کہ ابصار عالم کے خلاف مقدمے میں بھی دفعہ 505 کو شامل کیا گیا ہے۔جبران ناصر کے مطابق ریاست کو پتا ہے کہ یہ ایک کمزور ایف آئی آر ہے جو دفعہ 505 شامل کیے جانے کی وجہ سے کوئی خاص سماعت کے بغیر ہی خارج ہوجائے گی۔ اس کے باوجود اس مقدمے کے اندراج سے یہ فائدہ ہوگا کہ بلال فاروقی اور ان کے خاندان کو ہراساں کرنے کا مقصد پورا ہوجائے گا، یہ مختصر عرصے کیلئے بندے کو لاپتہ کرنے کا متبادل ہے کیونکہ انہیں پتا ہے کہ شمالی علاقہ جات کی سیر ایک گھٹیا بہانہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں