احسان کے بدلے احسان ۔۔۔!!!خاتون کا 16 مرتبہ گرفتار کرنے والے پولیس افسرکو زندگی کا سب سے بڑاتحفہ

احسان کے بدلے احسان ۔۔۔!!!خاتون کا 16 مرتبہ گرفتار کرنے والے پولیس افسرکو زندگی کا سب سے بڑاتحفہ

نیو یارک (ویب ڈیسک) ایک خاتون نے اپنا گردہ دے کر اس پولیس اہلکار کی جان بچا لی ہے جس نے کئی مرتبہ ان کو گرفتار کیا تھا۔امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کے مطابق جوسیلین جیمز، جو نشے کی عادی رہیں اور اب علاج کے بعد صحت یاب ہو رہی ہیں، نے فیس بک پر ایک

پوسٹ دیکھی جس میں لکھا گیا تھا کہ سابق پولیس افسر ٹیریل پوٹر بیمار ہیں اور ان کو گردے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ پولیس افسر کی بیٹی کی جانب سے کی گئی تھی۔پوسٹ پڑھنے کے بعد جوسیلین جیمز نے پوٹر کی بیٹی سے رابطہ کیا اور پیش کش کی کہ وہ اپنا گردہ عطیے کے طور پر اس پولیس افسر کو دینا چاہتی ہیں جس نے بے شمار مرتبہ ان کو گرفتار کیا تھا۔40 سالہ جوسیلین جیمز اب ایک سنجیدہ اور اچھی زندگی گزار رہی ہیں جو کبھی نشے کی بدترین لت کا شکار رہیں۔ نشے میں انہوں نے اپنی گاڑی اور ملازمت بھی کھو دی تھی اور اپنے اخراجات کے لیے چھوٹی موٹی چوریاں شروع کیں۔2007 اور 2012 کے درمیان ان کو 16 مرتبہ گرفتار کیا گیا اور وہ ریاست کی ’موسٹ وانٹڈ‘ فہرست میں بھی رہیں۔ایک رات انہوں نے ٹی وی پر اپنا نام ’وانٹڈ‘ کے طور پر دیکھا تو فیصلہ کیا کہ وہ ایسی زندگی سے تنگ آ گئی ہیں، اگلے روز انہوں نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا اور چھ ماہ جیل میں گزارے۔ اس کے بعد وہ بحالی صحت مرکز گئیں اور نو ماہ وہاں گزارے۔آج وہی جوسیلین جیمز ان خواتین کی مدد کر رہی ہیں جو اس وقت اسی حال میں ہیں جن میں کسی دور میں جوسیلین خود رہیں۔ پولیس افسرٹیریل پوٹر کو نئے گردے کے لیے سات سے آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔جوسیلین جیمز نے وی یو ایم سی وائس میگزین کو بتایا کہ ’میں آپ کو آج بھی یہ نہیں بتا سکتی کہ پوسٹ میں کیا کہا گیا ہے کیونکہ میں نے اس کو پورا کبھی نہیں پڑھا، میں نے بس یہی دیکھا کہ اس آدمی کو گردے کی ضرورت ہے اور ایک مقدس جذبے نے مجھ سے کہا کہ تمہارے پاس اس آدمی کا گردہ ہے۔‘ڈیلی میل کے مطابق جوسیلین نے جولائی میں پوٹر کو گردے کا عطیہ دیا اور دونوں اب ٹھیک ہیں۔گردہ حاصل کرنے کے بعد پوٹر کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک الگ واقعہ ہے، ایسا شخص جس نے آپ کو جیل میں ڈالا ہو۔ اگر آپ مجھے گردہ وینے والے سو افراد کے نام پوچھتے تو جوسیلین جیمز کا نام اس فہرست میں قطعاً نہ ہوتا کیونکہ ہمارا بعد میں کوئی رابطہ نہ تھا۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں