بریکنگ نیوز: ساری دنیا کی اپیلیں بے اثر

بریکنگ نیوز: ساری دنیا کی اپیلیں بے اثر

تہران (ویب ڈیسک) ایران نے بے گناہ کی جان لینے کے الزام میں قید کاٹنے والے اپنے ایک عالمی شہرت یافتہ پہلوان نوید افکاری کو تختہ دار پر چڑھا دیا ہے۔ جبکہ اس ریسلر کی سزا میں کمی اور انھیں یہ سزا نہ دینے کے حوالے سے بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے رحم کی

اپیلیں بھی کی گئی تھیں۔ستائس سالہ نوید افکاری پر سنہ 2018 میں کے دوران ایک گارڈ کی جان لینے کا الزام تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سے زبردستی کرکے انھیں اس جرم کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ردعمل دیتے ہوئے اس سزا کو ‘انصاف کا مذاق’ قرار دیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کی گئی ایک لیک ریکارڈنگ میں افکاری کہتے ہیں کہ ‘اگر مجھے سزا دے دی گئی تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو علم ہو کہ ایک بے گناہ شخص جو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پوری طاقت سے لڑا ۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق افکاری کو ملک سے جنوبی شہر شیراز میں یہ سزا دی گئی۔ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو سزا پر عملدرآمد سے پہلے اپنے خاندان سے ملنے نہیں دیا گیا جو کہ ایرانی قوانین کے خلاف ہیں۔حسن یونس نے ٹوئٹر پر یہ کہا کہ ‘کیا تم لوگ نوید کو تختہ دار پر چڑھانے کی اتنی عجلت میں تھے کہ تم لوگوں نے نوید کو اہلخانہ سے آخری ملاقات سے بھی محروم رکھا؟’پہلوان نوید افکاری کی سزا کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر ایرانی حکومت سے بہت اپیلیں کی گئیں تھی جن میں عالمی سطح پر 85 ہزار اتھلیٹس کی نمائندگی کرنے والی ایک یونین بھی شامل تھی۔ورلڈ پلیرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ انھیں مظاہروں میں حصہ لینے پر’غیر منصافانہ طور پر نشانہ بنایا گیا’ اور اگر ایران نے ان کی سزا پر عملدرآمد کیا تو دنیا کے کھیلوں سے ایران کو نکال دیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نوید افکاری کی سزا کے متعلق رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریسلر نوید افکاری کا جرم صرف حکومت مخلاف مظاہروں میں شامل ہونا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں