لاہور موٹروے واقعہ : 72 گھنٹوں میں ملزم کا سراغ دراصل کیسے لگایا گیا ، اسکے لیے کیا ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ؟ جان کر آپ پنجاب پولیس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں گے

لاہور موٹروے واقعہ : 72 گھنٹوں میں ملزم کا سراغ دراصل کیسے لگایا گیا ، اسکے لیے کیا ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ؟ جان کر آپ پنجاب پولیس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) وہ سانحہ جس نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ، اس معاملے میں ایک بڑی کامیابی تو یہ حاصل ہوگئی کہ ان مکروہ درندوں کی شناخت ہوگئی۔ وہ دونوں بدبخت جنہوں نے مظلوم خاتون کی زندگی برباد کی ، ان شااللہ اب عبرت ناک سز ا

ان کا مقدر بنے گی۔نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ صوبائی حکومت اور پولیس کو اس کامیابی پر سراہنا چاہیے۔ یہ ایک ایسا جرم تھا جس کے مرتکب ملزموں کو ڈھونڈناآسان نہیں تھا۔ آدھی رات کو اس واردات کے بعد نامعلوم ملزم غائب ہوگئے ، ان تک پہنچنا بڑا چیلنج تھا۔ پولیس کے پاس بظاہر ایک ہی آپشن تھی کہ قریبی دیہات کو چیک کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ مشکوک ملزموں کا ڈی این اے لیا جائے تاکہ متاثرہ خاتون کے سیمپل سے میچ کر نے کی صورت میں انہیں پکڑا جا سکے ۔اس کیس میں ملزم کا تعلق قریبی گائوں سے نہیں تھا ۔صورتحال پریشان کن ہوجانی تھی، مگر خوش قسمتی سے مرکزی ملزم عابدعلی کا فرانزک ڈیٹا موجود تھا جو میچ(Match)کر گیا اور اس کو ٹریس کرنا ممکن ہوگیا۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں پر پولیس کی کارکردگی کو سراہنا بنتا ہے۔ رات بارہ بجے انہیں سیمپل میچ کرنے کی اطلاع ملی اور انہوں نے رات ہی میں ملزم کا کھوج لگا لیا، اس کے بارے میں تمام ریکارڈ اکھٹا کر لیا، شناختی کارڈ ٹریس ہوگیا اور اس کے خاندان کے فورٹ عباس ، بہاولنگر سے ضلع شیخوپورہ شفٹ ہوجانے کے باوجود موجودہ مکان کے ایڈریس تک پہنچ گئے۔ ملزم کے پاس چار سمیں تھیں، وہ سب بند تھیں، مگرپولیس ماہرین اس سم تک پہنچ گئے جو ملزم کے نام پر نہیں ، مگر وہ استعمال کر رہا تھا۔ جیوفینسنگ سے یہ کنفرم کر لیا گیا کہ یہی سم والا موبائل موقعہ واردات پر موجود تھا۔

اسی نمبر سے دوسرے ملزم کو بھی ٹریس کیا گیا اور جیو فینسنگ سے اس کی بھی تصدیق کر لی گئی۔ ان سطور کے لکھے جانے تک ملزم گرفتار نہیں ہوئے تھے، مگر ان کی گرفتاری نوشتہ دیوار ہے۔ ان کے گرد گھیرا بے حد تنگ ہوچکا اور ذلت کی موت کے سوا ان شااللہ وہ زندگی میں تو قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ یہ سب واردات کے اگلے تین دنوں میں ہوگیا۔ ستر بہتر گھنٹوں میں ملزموں تک پہنچ جانا پولیس اور انتظامیہ کی کامیابی ہے۔ پولیس اور سسٹم کی ناکامی پر جب تنقید کی جاتی ہے تو ملزم ٹریس کرنے پرستائش بھی ضروری ہے۔ اگلا مرحلہ مضبوط چالان بنا کر عدالت میں پیش کرنا ہے۔ شواہد سائنسی ہیں، امکانات یہی ہے کہ قصور کی زینب کیس کی طرح اس کیس کے ملزموں کو بھی جلد عبرتناک سزا سنادی جائے گی۔ ٹرائل کو سپیڈی ہونا چاہیے۔ وکیل کرنا ملزموں کا حق سمجھا جاتا ہے، مگر زینب کیس میں وکلا برادری کا رویہ بڑا مثبت رہا، ملزم کوقانونی طور پر بچ نکلنے کا کوئی موقعہ وکلا صاحبان نے نہیں دیا۔ اس بار بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یہ دونوں درندے سخت ترین سزا کے مستحق ہیں۔ انہیں سخت ترین سزا ملنی چاہیے اور یہ سزا سرعام دی جائے۔ زینب کیس کے ملزم عمران کوسزا مل گئی، مگر اس کا معاشرے پر گہرا اثر نہیں پڑا، اس لئے کہ اسے سرسزا دینے سے گریز کیا گیا۔ عدالتیں بعض کیسوں میں سخت ترین سزائیں دینے کا اختیار رکھتی ہیں، ایسی سزا جو سماج میں جرم کے خلاف خوف پیدا کرے اور جرائم پیشہ افراد کو عبرت ہو۔

ہفتہ کی شام وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس کی پریس کانفرنس سے کچھ دیر پہلے ایک چینل پر اسلام آباد میں جاری عورت مارچ کے مظاہرے کی رپورٹ دیکھی۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جرم کے خلاف جماعت اسلامی خواتین ونگ کی جانب سے سابق رکن اسمبلی سمیحیہ راحیل قاضی کی قیادت میں مظاہرہ بھی ہوا، جس میں خواتین نے ملزم کو سر عام سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ میڈیا میں جماعت اسلامی کی باپردہ خواتین کا مظاہرہ کوریج نہ پا سکا، جبکہ اسلام آباد میں عورت مارچ کی جانب سے مظاہرہ بھرپور کوریج اور سپیشل پیکیج رپورٹس کا حقدار ٹھیرا۔خیر یہ تو ہوتا ہے، مذہبی جماعتیں ہمیشہ نظرانداز ہوتی ہیں۔ عورت مارچ مظاہرے کی ایک سرکردہ خاتون کا انٹرویو دکھایا گیا۔ محترمہ نے ملزموں کو سزائیں دینے کا مطالبہ تو کیا، مگر اصرار کے ساتھ کہا کہ انہیں تختہ دار پر نہ چڑھایا جائے اور سرعام سز اتو بالکل ہی نہ ملے۔ اپنے استدلال کے حق میں وہ کچے پکے دلائل دیتی رہیں، مگر ان کا چہرہ الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے انہیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ ایسا گھنائونا جرم کرنے والوں کو جتنی بھی سخت سزا ملے وہ کم ہے، مگر این جی اوز کا مخصوص ایجنڈا انہیں عمر قید سزا دینے کی بات کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ایک دلیل یہ دی کہ ملزم کو تا حیات قید میں رکھا جائے ۔ پاکستان کا معاملہ مختلف ہے ، یہاں موت کی سزا موجود ہے بلکہ ہمارے عوام سنگین جرائم میں سزائے موت کے حامی ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ جرائم میں کمی اس کے بغیر لانا ممکن نہیں۔

افسوس کہ ہماری این جی اوز بعض مغربی ممالک کی جانب سے اس سزا کو ختم کرنے کے حق میں لابی کرنے کے لئے فنڈنگ کرنے کے باعث یہ غیر مقبول موقف اپنانے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ایسے درندوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ دھرتی پر سانس لیں۔ تاحیات قید رکھنے کا مطلب تو یہ ہوا کہ ریاست اگلے چالیس پچاس برسوں تک ان شیطانوں کے کھانے پینے کے اخراجات اٹھاتی رہے۔ آخر کیوں؟اس کیس میں ملزموں کو سرعام سزا دینے کے منظر کو ٹی وی چینلز پر دکھایا جائے۔ جرم کرنے والوں کو علم ہو کہ غلط کرنے پر یہ سزا انہیں مل سکتی ہے۔ بعض خاندان بچوں کے جرائم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ایک ملزم کے خاندان کے بارے میں بھی ایسا ہی کچھ بتایا گیا، کہا جاتا ہے کہ اس خاندان نے اپنی ایک بیٹی کو بھی زندگی سے محروم کر دیا ، جس وجہ سے مقامی سطح پر ردعمل ہوا اور انہیں فورٹ عباس چھوڑنا پڑا۔ جب سرعام سزا دی جائے گی،تب والدین کو بھی علم ہوگا کہ اگر بچوں کو راہ راست پر نہ رکھا گیا تو کل کو ان کے بچے یوں تختہ دار پر لٹکے ہوں گے۔ صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس ملزموں تک پہنچ گئی، متاثرہ خاتون کو جو صدمہ پہنچا، جو تکلیف ملی وہ تو واپس نہیں ہوسکتی، اسے زندگی بھر اس روحانی اور ذہنی گھائو کے ساتھ جینا پڑے گا۔ ملزموں کے پکڑے جانے اور سخت ترین سزا ملنے سے البتہ آسودگی کے چند لمحات ضرور اس کے حصے میں آئیں گے۔ اس خاتون کو اچھے لیول پر نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے۔ این ایل پی (NLP)کی بعض تکنیکس اس شدید ذہنی صدمے سے باہر آنے میں مدد کرسکتی ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے ان معزز خاتون کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ بھیانک جرم دو افراد نے کیا، مگر پوری پاکستانی قوم شرمندہ ہوئی۔ اپنی اس بیٹی کی دل جوئی کرنا ، زخموں پر مرہم کرنا، ہر قسم کی مدد فراہم کرنا پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔عوام کی نمائندگی حکومت کرتی ہے، اسے یہ فرض ادا کرنا چاہیے۔ اگلا مرحلہ وہ سسٹم بنانے کا ہے جس کے باعث قوم کی کسی اور بیٹی کو ایسی تکلیف سے نہ گزرنا چاہیے، اس پرآئندہ نشست میں تفصیل سے بات کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں