ٹی وی چینلز کی ریٹنگ جس آلے سے ناپی جاتی ہے ، وہ کہاں سے منگوایا جاتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے ؟ اسکی ہر گھر میں موجود ٹی وی ریموٹس تک کیسے پہنچ ہوتی ہے؟ ایک بے حد معلوماتی رپورٹ

ٹی وی چینلز کی ریٹنگ جس آلے سے ناپی جاتی ہے ، وہ کہاں سے منگوایا جاتا ہے اور کیسے کام کرتا ہے ؟ اسکی ہر گھر میں موجود ٹی وی ریموٹس تک کیسے پہنچ ہوتی ہے؟ ایک بے حد معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) ہم نے بدعنوانی کے بہت روپ دیکھے ہیں۔ ایک نیا روپ ٹی وی ریٹنگ سکینڈل بھی ہوسکتا ہے۔ ٹی وی ریٹنگ سے کیا مراد ہے؟ لوگ ابھی اس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔ بات کچھ یوں ہے کہ جب صرف پی ٹی وی ہوتا تھا تو اُس کے پروگراموں کے

بارے میں رائے لینے کے لیے گھرگھر سروے کیا جاتا تھا۔نامور کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ پی ٹی وی کے نمائندے ناظرین کی دہلیز پر جاکر پروگراموں کے بارے میں فارم بھرتے تھے جن کو ایک مرکزی دفتر میں اکٹھا کرکے ڈیٹا حاصل کیا جاتا۔ اس نظام کو ناظرین کی رائے لینے کا ڈائری ریٹنگ سسٹم کہتے تھے۔ جب پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کی بھرمار ہوئی تو ان پر پیش کئے جانے والے پروگراموں کے بارے میں رائے لینے کے لیے ڈیجیٹل طریقہ استعمال کیا جانے لگا جو ڈائری ریٹنگ سسٹم سے ہٹ کر تھا۔ اسے ٹی آر پی یعنی ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ کہتے ہیں جو پاکستان میں پہلی مرتبہ 2007ء میں متعارف کرایا گیا۔ ٹی آر پی ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے تحت کسی چینل یا پروگرام کی مقبولیت کا اندازہ ٹیکنالوجی کے ذریعے لگایا جاتا ہے۔ اس ڈیٹا سے اشتہار دینے والی کمپنیاں اندازہ لگاتی ہیں کہ کون سا پروگرام ناظرین میں کتنا مقبول ہے۔ اس طرح کمپنیاں اُس پروگرام کو زیادہ اشتہار دیتی ہیں۔ ٹی وی ریٹنگ میں ناظرین کے سماجی پس منظر اور ٹی وی دیکھنے کی عادات سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کی جاتی ہیں۔ یہ معلومات اشتہاری کمپنیوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے بھی مددگار ہوتی ہیں کیونکہ اس ڈیٹا سے انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کس وقت کون سا پروگرام مناسب رہتا ہے۔ ٹی آر پی کے لیے فریکوئنسی مانیٹرنگ میٹر استعمال کئے جاتے ہیں جنہیں پیپل میٹر کہا جاتا ہے۔ یہ میٹر منتخب گھروں میں لگائے جاتے ہیں۔

پیپل میٹر برطانوی کمپنی کی ایجاد ہیں جو ایک کتاب کے سائز کا ڈیجیٹل ڈبہ ہوتا ہے جسے ٹی وی کیبل کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے۔ اس کے ریموٹ پر موجود بٹن گھر کے افراد کو الاٹ کردیئے جاتے ہیں۔ گھر کا جو فرد ٹی وی دیکھنا چاہے گا وہ اپنے الاٹ شدہ بٹن سے ٹی وی آن کرے گا۔ اس طرح ڈیجیٹل باکس میں گھر کے افراد کی عمر، جنس، پسندیدہ پروگرام اور وقت کا ڈیٹا بھی اکٹھا ہوتا ہے جو پیپل میٹر کی کمپنی کے مرکزی کمپیوٹر یعنی مین سرور میں بھی پہنچ جاتا ہے۔ پیپل میٹر ایک قیمتی آلہ ہے جو صرف درآمد کیا جاتا ہے۔ ٹی آر پی بزنس کا سب سے حساس کام کل آبادی میں منتخب جگہوں کی تعداد کا ہوتا ہے کیونکہ منتخب گھروں کے ڈیٹا کو مجموعی آبادی پر تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ ایمانداری میں بھی غیرترقی یافتہ پاکستان جیسے ملک میں پیپل میٹر کے ساتھ اصل ڈیٹا اکٹھا کرنا مشکل ہے کیونکہ یہاں کے کیبل آپریٹر پہلے سے اطلاع دیئے بغیر چینلوں کے نمبر تبدیل کردیتے ہیں جن سے پیپل میٹر فوری طور پر اپنے آپ کو ہم آہنگ نہیں کرپاتا۔ پاکستان میں ٹی آر پی کا کام زیادہ تر دو کمپنیاں یعنی گیلپ اور میڈیا لاجک کرتی ہیں۔ پاکستان میں ٹی آر پی کے لیے پیپل میٹر صرف چند بڑے شہروں کے 713 گھروں میں لگائے گئے ہیں۔ ان شہروں میں کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، حیدر آباد، فیصل آباد، ملتان اور پشاور شامل ہیں جبکہ ان میں سے بھی پچاس فیصد پیپل میٹر صرف کراچی میں ہیں۔

اس حوالے سے ایک اور اہم بات یہ کہ مذکورہ تمام پیپل میٹر صرف شہری علاقوں میں نصب کئے گئے۔ اس طرح پاکستان کے ٹی آر پی میں دیہاتی علاقوں کی کوئی نمائندگی موجود نہیں ہے جبکہ پاکستان کی 70 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ اسی لیے ٹی آر پی پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ نظام پاکستان جیسے ملکوں میں ناظرین کی اصل نمائندگی کیسے کرسکتا ہے کیونکہ یہ ایک فیصد سے بھی کم آبادی اور مخصوص طبقے کی ترجمانی کرتا ہے۔ جیسا کہ زیادہ تر پیپل میٹر صرف کراچی میں لگائے گئے ہیں، اس طرح ایک شہر کے چند سو ناظرین کی رائے باقی پورے ملک کے ناظرین کی رائے کے برابر کیسے ہوسکتی ہے؟ اس کے علاوہ جہاں پیپل میٹر لگائے جاتے ہیں ان کے بارے میں شک کیا جاسکتا ہے کہ وہ گھر کسی نہ کسی دبائو میں بھی آسکتے ہیں جن میں مالی فائدہ یا مرعوب کرنے کی کوئی دوسری صورت بھی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے سوال اٹھائے جاسکتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں کیا ٹی آر پی کو ٹیلی ویژن چینلوں اور پروگراموں کے حوالے سے مقبولیت کا ڈیٹا اکٹھا کرنے والا محفوظ اور ایماندار نظام کہا جاسکتا ہے؟ جیسا کہ ڈائری ریٹنگ اور پیپل میٹر ریٹنگ میں زمین آسمان کا فرق ہے ویسے ہی ڈائری ریٹنگ اور پیپل میٹر ریٹنگ میں بدعنوانی کے امکانات کا بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ ڈائری ریٹنگ میں کسی پروگرام یا چینل کی مقبولیت کم یا زیادہ کرنے کے لیے بہت زیادہ افرادی قوت درکار ہوتی تھی۔ اس کے باوجود بہت ہی معمولی نتائج پر اثرانداز ہوا جاسکتا تھا۔ دوسری طرف پیپل میٹر ریٹنگ میں ٹیکنالوجی کی معمولی سی منصوبہ بندی کے ساتھ نتائج پر بہت زیادہ اثرانداز ہوا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں ڈی ٹی ایچ نظام آجانے کے بعد پیپل میٹر ناکارہ ہوگئے ہیں۔ ڈی ٹی ایچ سے مراد ڈائریکٹ ٹوہوم یعنی کیبل کے بغیر سیٹلائٹ کے ذریعے اپنے ٹی وی سیٹ پر براہِ راست پروگرام دیکھنا ہے۔ پاکستان میں تاحال ڈی ٹی ایچ شروع نہیں کیا جاسکا۔ پیپل میٹر ریٹنگ دراصل عوام کے نام کو ایکسپلائٹ کرنے کا نظام ہے۔ یعنی جس طرح انتخابات میں جعلی ووٹ ڈالے جاسکتے ہیں ویسے ہی منتخب ناظرین کی رائے کے جعلی ووٹ بھی کاسٹ کئے جاسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں