امارات بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر باقاعدہ دستخط : ٹرمپ اور نتن یاہو کی موجودگی میں فلسطینیوں کے حق میں کس نے آواز بلند کردی ؟ حیران کن خبر

امارات بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر باقاعدہ دستخط : ٹرمپ اور نتن یاہو کی موجودگی میں فلسطینیوں کے حق میں کس نے آواز بلند کردی ؟ حیران کن خبر

لندن (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے تاریخی معاہدے پر دستخط کردیے، اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی موجود تھے۔وائٹ ہاوس میں منعقدہ اس تقریب کی میزبانی کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ ”

ان معاہدوں سے پورے خطے میں جامع امن کے قیام کی بنیاد پڑے گی۔” اس موقع پرصدر ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان اور بحرین کے وزیر خارجہ عبد الطیف الزیانی بھی موجود تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے ان معاہدوں کو خوش آمدید کہا کہ ‘یہ دن تاریخی طور سے بہت اہم ہے، یہ امن کے ایک نئے آغاز کی علامت ہے۔‘نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے اس معاہدے سے ‘عرب۔اسرائیلی تصادم اب ہمیشہ کے لیے ختم‘ ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس پیش رفت میں مزید توسیع ہوگی اور دیگر عرب ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔تاریخ کا دھارا بدل جائے گااس موقع پر موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے

وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے ‘امن کا انتخاب کرنے اور فلسطینی علاقوں کو صیہونی ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے کو روک دینے‘ کے لیے نیتن یاہو کا ذاتی طورپر شکریہ ادا کیا۔بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے بھی اپنے ملک کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو سراہا ہے اور اس کو امن کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”یہ اب ہماری ذمے داری ہے کہ ہمیں اپنے عوام کو ایسا امن وسلامتی مہیا کرنے کے لیے فوری طور پر اور فعال انداز میں کام کریں جس کے وہ حق دار ہیں۔”وائٹ ہاوس کے ساتھ لان سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا”آج سہ پہر ہم یہاں تاریخ کا دھارا بدلنے کے لیے جمع ہوئے ہیں” انہوں نے مزید کہا”کئی دہائیوں کی تقسیم اور تنازعات کے بعد نئے مشرق وسطی کا سورج طلوع ہورہا ہے۔“صدرٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب مشرق وسطیٰ کے تین ممالک مل کر کام کریں گے، اب یہ دوست ہیں، ان تین ملکوں کی قیادت کی جرات و ہمت کا شکر گزار ہوں اور اب تمام عقائد کے لوگ امن اور خوش حالی کے ساتھ رہ سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں