بھارتی فوج میں مسلمان رجمنٹ کے موجود ہونے کی خبروں کی حقیقت کیا ؟ کیا اس رجمنٹ نے واقعی 1965 میں پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار کیا تھا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

بھارتی فوج میں مسلمان رجمنٹ کے موجود ہونے کی خبروں کی حقیقت کیا ؟ کیا اس رجمنٹ نے واقعی 1965 میں پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار کیا تھا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) فوجیوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کی دوسری بڑی زمینی فوج انڈیا کی ہے۔ آج اس میں بارہ لاکھ سے زیادہ حاضر سروس اور تقریباً دس لاکھ ریزرو فوجی ہیں۔انڈین فوج میں آرمز اور سروسز کور کے علاوہ سینکڑوں الگ الگ ریجمنٹس ہیں۔ ان میں سے انفینٹری کی کئی

نامور صحافی محمد شاہد بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ریجمنٹس کی پریڈ انڈیا کے یوم جمہوریہ پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انفینٹری ہتھیار بند پیدل فوجی دستوں کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ہے۔انڈین فوج کی انفینٹری میں سکھ، گڑھوال، کماؤں، جاٹ، مہار، گورکھا، راجپوت سمیت اکتیس ریجمنٹس ہیں۔ان کی بات یہاں پر اس وجہ سے ہو رہی ہے کیونکہ ایک ریجمنٹ کے بارے میں سوشل میڈیا پر زور و شور سے بحث ہو رہی ہے۔دراصل فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل یہ پیغام وائرل ہو رہا ہے کہ انڈین فوج کی مسلم ریجمنٹ نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے علاوہ کئی صارفین یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ مسلمان فوجیوں سے ہتھیار ڈلوائے گئے اور اس کے بعد اس ریجمنٹ کو ہی ختم کر دیا گیا۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) ششی استھانا مسلم ریجمنٹ کے اس دعویٰ کو خارج کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فوج میں کبھی بھی مسلم ریجمنٹ نام کی کوئی ریجمنٹ تھی ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ذات اور نسل کی بنیاد پر ریجمنٹ یا تو برطانوی دور میں بنائی گئیں یا یہ وہ فوجیں تھیں جو ایک ریاست کی فوج کے طور پر کام کیا کرتی تھیں، جیسے کہ جموں کشمیر لائٹ انفینٹری ریجمنٹ۔ یہ جموں کشمیر رجواڑے کی فوج تھی۔وہ کہتے ہیں کہ ’انڈیا کی آزادی کے بعد ان ریجیمنٹس کو انہی ناموں کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوج ذات پات یا فرقہ پرستی کو فروغ دینا چاہتی ہے بلکہ یہ تاریخ کا حصہ ہے۔‘ریجیمنٹس کی اپنی ایک تاریخ رہی ہے۔

انڈین فوج کی مدراس ریجمنٹ 200 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے اور کماؤں ریجمنٹ نے تو دونوں عالمی لڑائیوں میں حصہ لیا تھا۔لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین مسلم ریجمنٹ کے دعوؤں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ پروپیگینڈا ہے اور انڈین فوج میں پچھلے 200 سال سے بھی کوئی مسلم ریجمنٹ نہیں تھی۔وہ کہتے ہیں کہ ’برٹش انڈین آرمی میں سکھ، پنجاب، گڑھوال جیسی ریجمنٹس کے علاوہ بلوچ اور فرنٹئیر فورس ریجمنٹ بھی تھیں۔ تقسیم کے بعد بلوچ اور فرنٹئیر فورس ریجمنٹس پاکستان میں چلی گئیں اور پنجاب ریجمنٹ پاکستان میں بھی ہے اور انڈیا میں بھی۔‘انڈین فوج میں کل کتنے مسلمان ہیں، اس کے کوئی حتمی اعدادوشمار موجود نہیں ہیں۔ حالانکہ 2014 میں ’دی ڈپلومیٹ‘ نامی جریدے نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا تھا کہ انڈین فوج میں تین فیصد مسلمان ہیں اور اس میں بھی جموں کشمیر لائیٹ انفینٹری میں پچاس فیصد مسلمان ہیں۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) ششی استھانا کہتے ہیں کہ انڈین فوج میں مذہب یا ذات کی بنیاد پر تعیناتی نہیں ہوتی ہے، صرف فٹنس دیکھی جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوج میں کوئی ریزرویشن نہیں ہے اور اگر آپ کی یو پی میں بھرتی ہو رہی ہے تو پھر چاہے آپ گڑھوالی ہوں، کماونی ہوں یا مسلمان ہوں کوئی بھی کسی بھی ریجمنٹ میں آ سکتا ہے۔ آپ کا انتخاب قابلیت پر ہوتا ہے، اگر آپ جسمانی طور پر فٹ ہیں تب ہی آپ کا انتخاب کیا جائے گا۔میجر جنرل (ریٹائرڈ) ششی استھانا کہتے ہیں کہ انڈین فوج کی کئی ریجمنٹس میں مسلمان ہیں اور ہر لڑائی میں مسلمان فوجیوں نے غیر معمولی حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔1965 کی انڈیا پاکستان وار میں جس میں فرضی مسلم ریجمنٹ کے ہتھیار ڈالنے کی افواہیں اڑائی جا رہی ہیں، اسی لڑائی میں کوارٹر ماسٹر حولدار عبدالحمید بے جگری سے لڑے اور انھیں مرنے کے بعد ملک کے سب سے اونچے فوجی اعزاز پرمویر چکر سے نوازا گیا تھا۔بی بی سی ہندی کی فیکٹ چیک کو پتہ چلا ہے کہ انڈین فوج میں آزادی سے پہلے اور بعد میں کوئی مسلم ریجمنٹ نہیں تھی، اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جا رہے دعوے پوری طرح سے جھوٹے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )

اپنا تبصرہ بھیجیں