ایک بار رسول اللہ ؐ نے ایک وفد کو کسی مہم پر روانہ کیا تو ہدایت کی نماز عصر منزل پر جا کر پڑھنا ، سفر طویل تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس روز کیا واقعہ پیش آیا ؟ ایک خوبصورت تحریر

ایک بار رسول اللہ ؐ نے ایک وفد کو کسی مہم پر روانہ کیا تو ہدایت کی نماز عصر منزل پر جا کر پڑھنا ، سفر طویل تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس روز کیا واقعہ پیش آیا ؟ ایک خوبصورت تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اختلاف رائے ایک حد میں رہے تو یہ باعث ِ رحمت ہوتا ہے کہ اس سے سوچ کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔ مختلف واقعات کی تعبیریں مختلف ہو سکتی ہیں، مختلف نکات کی تشریحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن ان کو کفر اور اسلام کا معاملہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خوب سے خوب تر کی تلاش (اپنے اپنے ذوق کے مطابق) جاری رکھنے والے ایک دوسرے سے مختلف راستوں پر جا نکلتے ہیں،جیسے کسی 302 کے مقدمے میں ایک عدالت ایک شخص کو بری کر دیتی ہے تو اس سے اعلیٰ عدالت اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی ہے۔ دونوں کی بنیاد مقدمے کی ایک ہی فائل میں بیان کردہ حقائق پر ہوتی ہے۔فقہی اختلافات کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ ایک بار رسول اللہؐ نے ایک وفد ایک مہم پر روانہ کیا تو ہدایت کی کہ نمازِ عصر منزل پر جا کر پڑھنا ہے۔ سفر کے دوران تاخیر ہوئی، نماز کا وقت آیا تو ارکان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ایک رائے تھی کہ حضورؐ نے جو فرمایا، وہ جلد پہنچنے کی تاکید کے لئے تھا کہ وقت ضائع نہ کیا جائے،چنانچہ اس رائے کے حاملین نے نماز ادا کر لی، دوسری رائے یہ تھی کہ الفاظ واضح ہیں، اِس لئے نماز بہر طور منزل ہی پر جا کر پڑھی جائے گی، وفد واپس آیا تو یہ معاملہ حضورؐ کی خدمت میں رکھا گیا، آپ مسکرا دیے اور کسی کو بھی حکم عدولی کا مرتکب قرار نہیں دیا۔ دونوں ہی فرمانبردار تھے۔ فقہی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر ان کے لئے جان لینے یا دینے پر اتر آنے کی اسلام تو کیا انسانیت بھی اجازت نہیں دے سکتی۔ شیخ رشید نے جس خطرے کی نشاندہی کی ہے، وہ خیالی نہیں حقیقی ہے۔ہمارے اردگرد ہی نہیں، ہمارے سروں پر بھی منڈلا رہا ہے، سیاسی اختلافات اور وابستگیاں جو بھی ہوں، فرقہ وارانہ لہر کو بھڑکنے سے روکنا ہر مسلمان اور ہر پاکستانی پر لازم ہونا چاہیے۔اس کے لئے سب سرجوڑ کر بیٹھیں،توسب کے سر سلامت رہیں گے۔ شیخ رشید وزیراعظم عمران خان کو اس معاملے کے لئے پیش قدمی پر آمادہ کریں۔ان کا ہاتھ بڑھے گا، تو اسے تھامنے والے بھی آگے بڑھ سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں