بریکنگ نیوز: متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

بریکنگ نیوز: متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا اور خا صی گرما گرمی ہوئی۔ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ذرائع کے مطابق بلاول نے ایک موقع پر نواز شریف کو اسمبلیوں اور سندھ حکومت سے استعفوں کی پیش کش کی

اور کہا کہ نواز شریف وطن آکر استعفے اسپیکر کو پیش کردیں۔نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے استعفے بلاول کو دے دیتے ہیں۔ بلاول اپنے استعفے انہیں اور وہ اپنے استعفے بلاول کو دیتے ہیں، پھر دونوں کے استعفے مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے کر دیں۔نواز شریف نے کہا کہ وہ استعفوں کے مخالف نہیں مگر حکومت کے خلاف دباؤ بناکر استعفے دیے جائیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن استعفوں کے بارے میں پارٹی رہنماؤں سے بحث کرتے رہے۔واضح رہے کہ ملک کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں وزیراعظم سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا پر قدغن لگانے کیخلاف کہا ہے کہ میڈیا پرپابندیاں قبول نہیں ، میڈیا کے ساتھ آج کے سلوک کی مثال نہیں ملتی، ہمیں میڈیا کی آزادی کیلئے مضبوط مؤقف اپنانا چاہئے ، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگانا نا ممکن ہوگیا ہے۔ اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ذرائع ابلاغ سے متعلق کہا کہ میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور اظہار کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے، افسوس دیگر حقوق کی طرح پاکستان کے عوام سے یہ حقوق بھی چھین لیا گیا۔ کانفرنس کے شرکا سے درخواست کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب یہ عہد کریں کہ ہم میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی حفاظت کریں گے

اور اس کے آزادی پر کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میڈیا کو اتنا قید کردیا گیا ہے کہ وہ ہماری لاکھوں کے اجتماعات اور ہماری تقاریر نہیں دکھارہے ان کو روکا جاتا ہے۔ میڈیا کی آزادی کیلئے مضبوط مؤقف اپنانا چاہئے، ʼمیڈیا کو اتنا کمزور اور مقید کیا گیا ہے کہ وہ ہمارے لاکھوں کے اجتماع اور ہماری تقاریر کو چینلوں میں دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ان کو باقاعدہ روکا جاتا ہے اور وہ رک جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ جب ملک میں لوگوں کو احتجاج کرنے، میڈیا پر اپنا بیانیہ پیش کرنے اور متنخب نمائندوں کو اسمبلی میں کچھ بولنے کی اجازت نہ ہو تو وہ معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہے۔مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کہا کہ وچ ہنٹنگ کے ساتھ اب میڈیا ہنٹنگ بھی ہوری ہے۔میڈیا کے ساتھ جو سلوک ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،پوری قوم کی نظریں اے پی سی پر ہیں کہ ہم کیا فیصلے کرتے ہیں، انہوں نے کہاکہ حکومت نے عوامی فلاح کے کون سے منصوبے بنائے ہیں؟ سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اس حکومت کو یہ ادراک نہیں کہ اب میڈیا پر پابندیاں لگانا ناممکن ہوگیا ہے کیونکہ آج کل ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ جب سے ہم سیاست میں ہیں ہم نے کبھی اتنی پابندیاں نہیں دیکھیں، ایک چینل کے سی ای او کو قید میں ڈالا ہوا ہے جبکہ ایک چینل کو لاہور سے بند کیا ہوا ہے۔یہ سب حکومت کی کمزوریاں ہیں، آج کل کی میڈیا کو بند کرنا یا رکھنا تقریباً نامکمل ہے کیونکہ آج کل ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب نے اپنی تقریر سے سماں باندھ دیا آج میڈیا نے خوف کی زنجیریں کو توڑا ہے اس پر میڈیا کو مبارک باد دیتی ہوں ، میری طرف سے میڈیا کو مباکباد بھی اور شاباش بھی،مریم نواز نے کہا کہ زنجیروں کو توڑنا چاہیے ان کی عزت نہیں کرنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں