پاکستان میں کسی کو وزیراعظم بنانے کے لیے صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہیں وہ کچھ کرنے کی صلاحیت تو نہیں رکھتا ۔۔۔۔ توفیق بٹ کا معنی خیز سیاسی تبصرہ

پاکستان میں کسی کو وزیراعظم بنانے کے لیے صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ کہیں وہ کچھ کرنے کی صلاحیت تو نہیں رکھتا ۔۔۔۔ توفیق بٹ کا معنی خیز سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) میرے خیال میں وزیراعظم کا عہدہ اِس ملک میں ہونا ہی نہیں چاہیے، نائب وزیراعظم کا عہدہ ہی ہونا چاہیے، بے اختیار وزیراعظم ہونے سے تھوڑے بہت اختیارات والا نائب وزیراعظم ہونا ”جمہوری نظام“ کے لیے ممکن ہے زیادہ بہتر ثابت ہو،…. اے پی سی میں موجود تقریباً تمام سیاستدان

اِس ملک کی اصلی قوتوں کے آلہ کار بنے رہے۔نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات مانتا کوئی نہیں ہے، کیونکہ سیاستدان سچ بولنا شروع کردیں اُنہیں سیاستدان کون کہے گا؟ ، البتہ شیخ رشید کھلے عام اِس کا اعتراف کرتے ہیں، شاید اِ سی سچ کے انعام کے طورپر تقریباً ہرآنے والی حکومت کا کسی نہ کسی صورت میں وہ حصہ یا ”کچھا“ بن جاتے ہیں، وہ وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں، اِس ملک میں ہروہ شخص وزیراعظم بن سکتا ہے جو وزیراعظم بننے کی اہلیت نہ رکھتا ہو، کسی کو وزیراعظم بنانے کے لیے صرف یہی دیکھا جاتا ہے وہ کہیں کچھ کرنے کی اہلیت تو نہیں رکھتا؟۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں بظاہر بھولے بھالے دکھائی دینے والے وزیراعلیٰ بُزدار مسلسل نااہلیوں کا مظاہرہ کہیں وزیراعظم بننے کے لیے تو نہیں کررہے؟، اپنی نااہلی کو وزیراعظم بننے کے لیے وہ اپنے ”تجربے“ کے طورپر بتاسکتے ہیں، وزیراعظم بنانے والی ”فیکٹری “ کے مالکان سے وہ کہہ سکتے ہیں ”بے شمار نااہلوں کو بطور وزیراعظم ملازمت پر آپ رکھ سکتے ہیں تو مجھے کیوں نہیں رکھ سکتے؟“ ہم کسی سے کم ہیں کیا ؟۔ ہمیں بھی ”خدمت “ کا موقع دیں“ ،…. بہرحال میں اے پی سی میں شریک سیاستدانوں کی اُن وارننگز کا ذکر کررہا تھا جو اِس ملک کی سیاسی واصلی قوتوں کو کچھ دبے دبے اور کچھ کُھلے کُھلے الفاظ میں اُنہوں نے دیں۔ اکتوبر میں تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا، اکتوبر آنے میں آٹھ دس روز ہی باقی رہ گئے ہیں، موجودہ حکمرانوں کے ساتھ یہ بڑی زیادتی ہے کہ کسی تحریک سے

نمٹنے کی تیاری کے لیے اُنہیں صرف آٹھ دس روز دیئے جائیں، ایسی تحریک سے نمٹنے کے لیے جن سول و پولیس افسروں سے اُنہوں نے کام لینا ہے اُن بے چاروں میں اتنی سکت ہی نہیں اپوزیشن کی کسی بڑی تحریک سے آسانی سے وہ نمٹ سکیں، وہ بے چارے آج کل صرف ایک ہی کام کرتے ہیں، سارا سارا دن انتظار کرتے ہیں کب اُن کی ٹرانسفر کے آرڈرزآجائیں، اور اپنا وہ صندوق جو اپنی تازہ ٹرانسفر پر اُنہوں ابھی کھولا ہی نہیں اُسے اُٹھا کر کسی اگلے ”اسٹیشن “ پر روانہ ہو جائیں، …. اپوزیشنی سیاستدانوں کو چاہیے موجودہ حکمرانوں کو تحریک سے نمٹنے کی تیاری یا پلاننگ کے لیے کم ازکم تین چار ماہ کا عرصہ اُنہیں مل جائے تو اپوزیشن کی تحریک سے نمٹنے کے لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے اِس عرصے میں اے پی سی میں شریک تمام سیاستدانوں پر کوئی نہ کوئی کیس ڈال کر اُنہیں ”سپردنیب“ کردیا جائے، نہ رہے گا بانس نہ بجے گی وہ بانسری جو ان دنوں ”نیرو“ مسلسل بجا بجا کر ایک ہی راگ الاپتا ہے ”یہ سب چور ہیں جو اپنے اپنے مفادات میں اکٹھے ہوئے ہیں“…. یہ ”راگ“ عوام کے دلوں کو دوبرسوں تک مسلسل بھاتا رہا، اب یہ راگ سُن سُن کر عوام بیزار ہوچکے ہیں، اب اہلیت دکھانی پڑے گی ورنہ اپوزیشن کی اکتوبر میں شروع ہونے والی تحریک کامیاب نہ بھی ہوئی اُس کے بعد شروع ہونے والی کوئی نہ کوئی تحریک کامیاب ہو جائے گی، اور ممکن ہے اندرونی وبیرونی بیساکھیوں کے بغیر ہی ہو جائے، …. جہاں تک چوروں اور لٹیروں کے اپنے اپنے مفادات میں اکٹھے ہونے کا تعلق ہے تو وہ صرف اپوزیشن میں ہی اکٹھے نہیں ہیں، کچھ کچھ حکومت میں بھی اکٹھے ہیں، …. کئی بار عرض کرچکا ہوں اور گزشتہ دوبرسوں میں تو خاص طورپر یہ ثابت بھی ہوگیا ہے اُنیس بیس کے فرق سے بلکہ اب یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا ”پونے بیس اور بیس“ کے فرق سے سب سیاستدان ایک ہی فطرت کے مالک ہیں، کل جو باتیں خان صاحب بطور اپوزیشن رہنما اُس دور کے حکمرانوں کے بارے میں کررہے تھے آج وہی باتیں اپوزیشن وزیراعظم خان صاحب کے بارے میں کررہی ہے، البتہ وزیراعظم خان کو ایک ”خصوصیت “ ضرور حاصل ہے، پوری اپوزیشن یک زبان ہوکر بھی یہ کہنے کی جرا¿ت یا حوصلہ نہیں کرپا رہی ”وزیراعظم ذاتی طورپر بے ایمان ہے“۔ اپوزیشن کو شاید پتہ ہے یہ جھوٹ اُنہوں نے بولا بھی کوئی اُس پر فی الحال یقین نہیں کرے گا۔ !!

اپنا تبصرہ بھیجیں