نواز شریف کوئی تقریر سوچے سمجھے بغیر نہیں کرتے ۔۔۔ یہ تقریریں صاف صاف بتا رہی ہیں کہ ۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ کی موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی

نواز شریف کوئی تقریر سوچے سمجھے بغیر نہیں کرتے ۔۔۔ یہ تقریریں صاف صاف بتا رہی ہیں کہ ۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ کی موجودہ سیاسی حالات کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) آئین کی کتاب پڑھیں تو اس میں واضح طور پر درج ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں ہے مگر پاکستان کی گذشتہ 60 سالہ تاریخ میں عملی طور پر اس کے برعکس معاملہ رہا ہے جمہوریہ پاکستان میں چار مارشل لاء نافذ ہوئے اور طویل جمہوری جدوجہد کے بعد

ان کا خاتمہ ہوا۔نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔حال ہی میں پارلیمانی لیڈرز کی کانفرنس میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں سیاست کو سیاست دانوں نے خود چلانا اور آگے لے کر جانا ہے۔فوج کی طرف سے دی گئی اس بریفنگ کی تفصیل آل پارٹیز کانفرنس کے بعد سامنے آئی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں باقی تو سب کچھ توقع کے عین مطابق تھا مگر لندن میں مقیم نواز شریف کی تقریر کے مندرجات اور لب و لہجہ غیر متوقع تھا۔عام خیال یہ تھا کہ بیماری کے دوران میاں نواز شریف کی لندن روانگی کسی پس پردہ ڈیل کی وجہ سے ہوئی تھی اور اس ڈیل کی وجہ سے میاں نوازشریف جارحیت کی بجائے مفاہمت کی طرف مائل ہو چکے ہیں مگر میاں نواز شریف کی ساری تقریر جارحیت اور مزاحمت کے اسی لہجے سے بھرپور تھی جس کا اظہار انھوں نے ’مجھے کیوں نکالا‘ بیانیے کے دوران بار بار کیا تھا۔میاں نواز شریف کی تقریر اور پھر فوجی بریفنگ کے حوالے سے کچھ مفروضے، سازشی کہانیاں زیر گردش ہیں جنھیں سن کر میاں نواز شریف کی تقریر، فوجی بریفنگ اور گورنر محمد زبیر کی ملاقاتوں کی کہانی کچھ کچھ سمجھ آتی ہے۔پہلا مفروضہ تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے لہجے میں جارحیت اور تلخی محمد زبیر اور آرمی چیف کی دو ملاقاتوں میں مثبت نتیجہ نہ نکلنے کی وجہ سے آئی۔ اس مفروضے کے مطابق نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیا کہ اگر آپ موجودہ سیٹ اپ کی اسی طرح حمایت جاری رکھیں گے تو پھر ن لیگ جارحانہ انداز اپنائے گی۔

دوسرا مفروضہ بالکل متضاد ہے مگر ہے وہ بھی دلچسپ۔ اس مفروضہ کہانی کے مطابق نواز شریف کو جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ نواز شریف بلا سوچے سمجھے کوئی تقریر نہیں کرتے اس تقریر سے پہلے انھوں نے ٹھنڈے دل سے اپنی حکمت عملی بنائی ہو گی۔بیان جار حانہ تھا مگر اس کی وجہ جذباتی نہیں سوچی سمجھی سکیم ہو گی اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف کو کہیں سے امید دلائی گئی ہے کہ یہ وقت وار کرنے کا ہے کیونکہ اب حکومتی کہانی لمبی چلتی نظر نہیں آرہی اسی ممکنہ اطلاع کی بناء پر ان کی تقریر میں جارحیت اور مزاحمت کا تڑکا تھا۔تیسرے مفروضے کے تانے بانے عالمی دنیا کی سازشوں سے ملتے ہیں۔ اس مفروضہ کہانی کے مطابق لندن میں نواز شریف ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے، وہ بین الاقوامی دنیا کے کئی اہم کرداروں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں وہ اپنے اثرو رسوخ سے موجودہ پاکستانی حکومت کے خلاف لابنگ کر رہے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتی حلقوں کو یقین ہے کہ سعودی عرب اور عمران حکومت کے تعلقات کی خرابی میں جہاں دیگر عناصر کار فرما ہیں وہاں میاں نواز شریف کے حلقہ اثر نے بھی سعودی عرب میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف اور عرب سفارتکاروں میں حالیہ دنوں میں کچھ رابطے بھی ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چین اور امریکہ کے متضاد مفادات کے باوجود جہاں چین کے سی پیک کی پاکستانی رفتار پر تحفظات ہیں وہیں ہم امریکہ کی افغانستان میں مدد کے باوجود ابھی تک ان سے اپنی امداد بحال نہیں کروا سکے۔ گویا چین اور امریکہ دونوں طرف سے کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔

چوتھا مفروضہ یہ ہے کہ ن لیگ گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کی جو سیاست کھیلتی آرہی ہے وہ چلتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ شہباز شریف گڈ کاپ بن کر مفاہمتی اور مصالحتی سیاست کی بات کرتے آرہے ہیں جبکہ نواز شریف اور مریم اینٹی اسٹیبلشمنٹ لائن لیتے ہوئے جارحانہ اور مزاحمتی سیاست کرتے آرہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کے مفاہمتی بیانیے کے باوجود حمزہ شہباز کی لمبی قید اور شہباز شریف پر ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ کے نئے مقدمات نے ان کے موقف کو نقصان پہنچایا ہے اور اب ن لیگ کے پاس جارحانہ بیانیے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا اس لیے یہ بیانیہ اپنا لیا گیا ہے۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی فوجی قیادت سے دو ماہ میں دو ملاقاتیں اور ان میں سیاست، نواز شریف اور مریم نواز شریف کے بارے میں بات چیت کی خبر باہر آنا بھی خلاف معمول معاملہ ہے۔عام طور پر ایسی ملاقاتیں پس پردہ رہتی ہیں اگر صحافیوں کو علم بھی ہو جائے تو ملاقاتی یہ نہیں بتاتے کہ ملاقات کا موضوع کیا تھا، عام طور پر ایک دوسرے کا بھرم رکھا جاتا ہے اور اداروں کی سیاست کا وقار بھی یہی تقاضا کرتا ہے مگر اس بار یہ سارے اصول اور ضابطے توڑ دیئے گئے جو انتہائی نامناسب طرز عمل ہے۔ملک میں حکومت اور اپوزیشن، فوج اور اہل سیاست یا سول و فوجیوں کی ملاقات ہونا ملکی مفاد میں ہے اگر باہم روابط نہ ہوں گے میل ملاقات نہ کی ہو تو اس سے فاصلے بڑھتے جائیں گے۔آل پارٹیز کانفرنس، فوجی بریفنگ اور محمد زبیر کی ملاقاتوں کی خبروں نے پاکستان کے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ توقع تھی کہ سیاسی میدان اکتوبر کے بعد گرم ہو گا اور پھر مارچ میں سینٹ الیکشن کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن دونوں نئی صف بندی کریں گی لیکن نواز شریف کی گرم تقریر نے سیاست میں وقت سے پہلے ہلچل پیدا کر دی ہے۔اور اس کے نتیجے میں محمد زبیر کی خفیہ ملاقاتیں بھی طشت از بام ہو گئی ہیں اور فوجی بریفنگ کی اندرونی کہانیاں بھی باہر آ گئی ہیں ان ساری سرگرمیوں کے نتیجے میں تلخیاں اور غصہ بڑھ رہا ہے امید کرنی چاہیے کہ عقل غالب آئے گی اور صحیح جمہوری منزل کی طرف جانے کی راہ ہموار ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں