اللہ خیر کرے : نواز شریف نے کروز میزائلوں کا قصہ کیوں چھیڑا ہے ۔۔۔ ؟صابر شاکر نے پاکستانیوں کو شریف خاندان کی خوفناک سازش سے آگاہ کر دیا

اللہ خیر کرے : نواز شریف نے کروز میزائلوں کا قصہ کیوں چھیڑا ہے ۔۔۔ ؟صابر شاکر نے پاکستانیوں کو شریف خاندان کی خوفناک سازش سے آگاہ کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نواز شریف اور مریم نواز نے جو کچھ مراعات اور رعایتیں مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوششیں کیں‘ ناکام رہیں‘ اب وہ دوسرے طریقے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ جبکہ دوسری جانب ارشد ملک نے حکومتی اداروں کو بہت کچھ بیان کر دیا ہے اور دستاویزات اور آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ

کی صورت میں یہ سارا ریکارڈ محفوظ کر لیا گیا ہے۔نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شریف فیملی بھرپور وار کر چکی ہے‘ نواز شریف چونکہ اسی سسٹم کا اہم ترین پرزہ رہ چکے ہیں جس کو وہ للکار رہے ہیں‘ انہوں نے اب بند کمروں کے تمام معاملات پر زبان بندی ختم کر دی ہے۔ کروز میزائل سے ابتدا کی ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھیں گے۔ مزاحمت کا فیصلہ کن راؤنڈ شروع ہو چکا ہے ایک طرف وہ کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکیں اور جماعت کے باغیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کر چکے ہیں۔ اپنی جماعت کے لوگوں پر سیاسی اور عسکری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ نواز شریف اس کوشش میں ہیں کہ اداروں میں گھات لگائی جائے۔ وہ تمام متعلقہ اداروں میں اپنا پیغام بھیج رہے ہیں‘ کیا نتیجہ برآمد ہو گا؟ یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ نواز شریف سینیٹ کے انتخابات سے پہلے ہر صورت میں نیا الیکشن چاہتے ہیں‘ کیونکہ سینیٹ کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت مزید سکڑ جائے گی اور پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی مزید تگڑی ہو جائیں گی اور اگر موجودہ سیاسی سیٹ اپ جاری رہتا ہے تو نون لیگ کا سائز کم اور پیپلز پارٹی کی جگہ میں اضافہ ہو گا۔ شریف فیملی کی کامیابی کا دارومدار زرداری کی امداد پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ کونڈولیزا رائس کی طرح اب بھی بیرونی عناصر اس کوشش میں ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے مابین مستقبل کے لیے پاور شیئرنگ فارمولا طے کروا دیں اور آصف علی زرداری اور شریف فیملی کے درمیان بداعتمادی کو ختم کروا کر گارنٹر بن جائیں۔ نواز شریف بار بار اپنی تقریروں میں ان بیرونی عناصر اور ممالک کا ذکر کر کے ان مخبریوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں کہ ان کے سکرپٹ میں پاکستان کی بدلتی ہوئی لبرل خارجہ پالیسی اور خطے میں پاکستان‘ ترکی‘ چین‘ روس اور ایران پر مشتمل بنتے ہوئے نئے اتحاد پر مزاحمت بھی ایجنڈے کا اہم جزو ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریاست پاکستان اور اس کے ادارے اپنی صفوں میں کس حد تک اتفاق اور اتحاد برقرار رکھتے ہیں۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ سسٹم میں موجود کتنے سپاٹ فکسر ان سے رابطے میں ہیں۔ حملہ دو طرفہ ہو گا نواز شریف سیاسی سرحدوں کو عبور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مولانا فضل الرحمان مذہبی کارڈ دکھا کر بازی پلٹنے کا مصمم ارادہ کئے ہوئے ہیں۔ سکرپٹ کچھ بڑا ہے اور نتائج کے اعتبار سے خطرناک بھی ہو سکتا ہے‘ اللہ خیر کرے۔ نواز شریف جنہوں نے سیاسی کیریئر مقامی مقتدرہ سے شروع کیا تھا‘ لگتا ہے ان کا آئندہ سفر بین الاقوامی مقتدرہ کے رحم و کرم پر ہو گا۔ چو مکھی لڑائی ہے‘ اعصاب شکن جنگ ہے‘ جیتے گا وہ جو اپنے آپ پر‘ اپنے فیصلوں کی ٹائمنگ پر کنٹرول رکھے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں