یہ ہے اصل کہانی : نیب اکثر کیسوں میں ملزمان سے ہار کیوں جاتا ہے ؟ کالم نگار آصف عفان نے اہم ادارے کی اندرونی کمزوری بیان کردی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹسز کو ہرگز ایزی نہ لیں۔ انصاف سرکار کے کورونائی اقدامات ہوں یا ادویات کی قیمتوں میں اضافہ‘ طرزِ حکمرانی ہو یا من مانی‘ سبھی پر عدالت مسلسل

شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ کرپشن کے بیس سال پُرانے زیر التواء کیسز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کیسز نمٹانے میں ایک صدی لگ جائے گی۔ جناب چیف جسٹس نے 120 نئی احتساب عدالتیں بنانے کا حکم دیتے ہوئے تمام کرپشن کیسز اور ریفرنسز کا 3 ماہ میں فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ نئی عدالتوں کا قیام نہ صرف وقت کی اہم ترین ضرورت ہے بلکہ سرد خانوں میں پڑے کیسز نمٹانے کے لیے بھی بڑا اقدام ہے۔عدالت نے نیب کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 5 احتساب عدالتیں خالی ہیں جن میں 1226 کیسز زیر التواء ہیں۔ ان عدالتوں میں فوری طور پر ججوں کی تعیناتی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کے تحفظات بجا ہیں۔ اگر کرپشن کے کیسز 20 سال تک زیر التواء رہیں گے تو کہاں کا احتساب اور کیسا انصاف؟ اس حوالے سے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کرواتا چلوں کہ جو روزِ اوّل سے ہی نیب کی کارکردگی کے لیے سوالیہ نشان کا باعث ہے۔ نیب کا ادارہ اور عدالتیں تو دستیاب وسائل میں اپنا کام بہرحال کر ہی رہی ہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ نیب کے شعبہ پراسیکیوشن کو بھی مضبوط اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ جب تک نیب پراسیکیوٹر مدِّمقابل کے پائے کا نہیں ہوگا‘ نیب کس طرح استغاثہ کا دفاع کر پائے گا؟ نیب کا ملزم کوئی عام آدمی تو نہیں ہوتا۔ اس کے بے تحاشا وسائل اور اثرورسوخ کے باوجود نیب اپنا کام کرکے کیسز عدالتوں میں بھجوا دیتی ہے

لیکن ٹرائل کے دوران نیب پراسیکیوٹر قدآور اور منجھے ہوئے لاء چیمبرز کا مقابلہ نہیں کر پاتا۔ جو چیمبرز کامیابی کی ضمانت اور برانڈ تصور کیے جاتے ہیں ان کے آگے نیب کا وکیل چند پیشیوں کی ہی مار ہوتا ہے۔ جس طرح تفتیش اور عدالتوں کے قیام کے لیے حکومت سہولیات فراہم کر رہی ہے اسی طرح شعبہ پراسیکیوشن کے لیے بھی مناسب فنڈز کا بندوبست کرنا چاہیے تاکہ نیب استغاثہ کے دفاع کے لیے قابل اور ماہر قانون دانوں کی خدمات حاصل کر سکے، اس طرح کیسز کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات نہ صرف دور سکیں گے بلکہ نیب کی کارکردگی پر اُٹھنے والی انگلیاں بجا طور پر ”انگشتِ بدنداں‘‘ کا منظر بن سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے نیب پر نئی عدالتوں کے قیام اور خالی اسامیوں پر فوری تعیناتیوں کا حکم نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ احتساب کے گھوڑے پہ نئی روح پھونکنے کے مترادف ہے۔ حکومت اگر احتساب کے عمل کو شفاف بناکر آگے بڑھانے میں سنجیدہ ہے تو اُسے اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ اس موقع پر صدر مملکت کا ایک بیان یقینا قابلِ تعریف ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی تحقیقات بھی کرنی چاہیے۔ نیب کو صدرِ پاکستان کی اس خواہش کا ضرور احترام کرنا چاہیے اور عرصہ دراز سے زیرِ التواء ان کیسز پر فوری کارروائی شروع کرکے اس تاثر کی نفی کرنی چاہیے کہ احتساب صرف اَپوزیشن کا ہی ہو رہا ہے۔ کالم ابھی یہاں تک پہنچا تھا کہ

سوشل میڈیا پر سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق ایک ویڈیو کلپ نے قلم کا دھارا ہی موڑ ڈالا۔ جذبۂ مسیحائی کے تحت کیے گئے سرکار کے انقلابی اقدامات کی تاب نہ لاتے ہوئے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں سے ڈاکٹرز مستعفی ہونا شروع ہو چکے ہیں ۔ استعفوں کی وجوہ ایم ٹی آئی ایکٹ، کورونا کے دوران غیر سنجیدہ رویہ، حفاظتی سامان کی عدم فراہمی اور سرکار کی ہٹ دھرمی بتائی جا رہی ہیں۔ ماضی کے حکمران بھی اپنے سقراطوں، بقراطوں کے مشوروں سے متاثر ہوکر ایسے کئی فیصلے کرکے سبکی اور ندامت کے ساتھ اداروں کی تباہی کا باعث بن چکے ہیں۔ 1998ء میں سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف ٹیچنگ ہسپتالوں میں کم وبیش یہی ماڈل نافذ کرکے ناکام کروا چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں اس ماڈل کے ثمرات اور فیض کے چشمے عوام پہلے ہی بھگت رہے ہیں۔ انصاف سرکار کے ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد کیا حشر برپا ہوگا یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں کام کرنے والے سرکاری ڈاکٹرز اور دیگر عملے کا سروس سٹرکچر آدھا تیتر آدھا بٹیر ہونے جارہا ہے جبکہ خودمختار بورڈ کے آگے سرکار اور وزارتِ صحت کی حیثیت کیا ہوگی؟ اور عوام کی کیا گت بننے جا رہی ہے؟ وہ سب نوشتۂ دیوار ہے۔ بے وسیلہ اور مستحق مریضوں کی بورڈ تک رسائی کیونکر ہوگی اور انہیں علاج معالجہ کی مفت سہولیات کیسے مل سکیں گی؟ ان سوالات کا جواب نہ تو وزارت صحت کے پاس ہے اور نہ ہی اس وزارت سے متعلق مشیروں کے پاس۔

دور کی کوڑی لانے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ماڈل ڈاکٹر نوشیرواں برکی کی ضد اور خواہش پوری کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا قطعی بے جا نہ ہوگا کہ برق بالآخر عوام پر گرتی محسوس ہوتی ہے۔ گویا سرکاری ہسپتال سرکار کے بجائے اب پرائیویٹ لوگ چلائیں گے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں میں پرنسپل اور ایم ایس سمیت کئی اہم عہدے ختم کر دئیے گئے ہیں اور پرائیویٹ لوگوں پر مشتمل بورڈ ہسپتال چلانے کے لیے تقرری اور تعیناتیاں کرے گا جبکہ مستحق اور نادار مریضوں کے مفت علاج معالجہ بھی اسی بورڈ کا صوابدیدی اختیار ہو گا۔ آفرین ہے فیصلہ سازوں اور حکومتی چیمپئنز پر‘ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ان کے اس اقدام سے بیماروں پہ کیا گزرے گی؟ ٹیچنگ ہسپتالوں میں رائج موجودہ نظام 2003ء میں پرویز الٰہی دور میں متعارف کروایا گیا تھا‘ جس میں صرف احساس و اخلاص کی کمی کو پورا کر لیا جاتا تو عوام کیلئے یہ سسٹم بہترین ثابت ہو سکتا تھا۔ بدقسمتی سے یہاں بھی حکمرانوں کے فیصلے دوسرے فیصلوں کی طرح ملاوٹ زدہ ہی ثابت ہوئے۔ ان کے دعووں اور وعدوں میں اگر ملاوٹ نہ ہوتی تو آج یہ اپنی اُن ذمہ داریوں سے نہ بھاگتے‘ جن کا بیڑا اٹھانے کے لیے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا تھا۔ آنے والے وقتوں میں اس انتظامی بددیانتی کا خمیازہ بہرحال عوام نے ہی بھگتنا ہے۔ بددیانتی صرف مالی ہی نہیں ہوتی‘ بددیانتی انتظامی بھی ہوتی ہے اور انتظامی بددیانتی کے نتائج اور خمیازے آنے

والی نسلوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ یہ قوم تو ابھی سابقہ حکمرانوں کی بددیانتیوں کے خمیازے اور قیمتیں ہی نہیں چکا پارہی۔ موجودہ حکومت نے ان خمیازوں کا مزید بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔ ابھی تو بلی تھیلے سے باہر آنی ہے۔ ٹیچنگ ہسپتالوں کے انتظامی بورڈز بننے ہیں اور یہ بورڈز بھی پرائیویٹ افراد پر مشتمل ہوں گے۔ ان بورڈز میں کون کون ہوگا‘ کس کس کو نوازا جائے گا‘ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ غیر منتخب‘ غیر موزوں اور عوام کے مسترد کیے ہوئے درجنوں افراد کو حکومت سرکاری اداروں میں پہلے ہی کھپا چکی ہے‘ جن کی اہلیت نامعلوم اور کارکردگی تاحال صفر ہے۔ حکومت کے پاس ایک سنہری موقع اور آنے والا ہے۔ چہیتوں اور منظور نظر افراد کو نوازنے کے لیے نیا ”فلڈ گیٹ‘‘ کھلنے جا رہا ہے۔ جس میں بچے کھچے اور اپنی باری کے منتظر کھلاڑیوں کی باریاں بہ آسانی لگوائی جا سکیں گی۔ کورونائی صورتحال میں اقدامات اور ناقابلِ یقین اخراجات کی ”چَکا چوند‘‘ سے خاص و عام سبھی کی آنکھیں چندھیا چکی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی تحفظات کا مسلسل اظہار کیا جارہا ہے۔ کورونا وارڈز میں ڈیوٹی سرانجام دینے والی 5 ہزار نرسز گزشتہ چار ماہ کی تنخواہوں کے لیے آج بھی دربدر بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ ایکسپو قرنطینہ سمیت ہسپتالوں کے اقدامات اور مناظر ان کے تمام دعووں کی قلعی پہلے ہی کھول چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں نئے نظام کے بعد ان کے طرزِ حکمرانی، اور احساس عوام کا مزید پول کھلتا نظر آرہا ہے۔(ش س م)

اپنا تبصرہ بھیجیں