بریکنگ نیوز: اسرائیل کے خلاف امریکہ میں آواز بلند ، نوجوان نسل کا امریکی حکومت سے زوردار مطالبہ ، پوری دنیا حیران رہ گئی

بریکنگ نیوز: اسرائیل کے خلاف امریکہ میں آواز بلند ، نوجوان نسل کا امریکی حکومت سے زوردار مطالبہ ، پوری دنیا حیران رہ گئی

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکہ کی بڑی جامعات کے طلبا کی اکثریت نے صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔امریکہ کی ’اورپانا شامپینUIUC‘ اور نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے طلبا کی کونسلوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صہیونی ریاست میں سرمایہ کاری واپس لی جائے۔الینوی یونیورسٹی کے طلبا نے اسرائیل میں سرمایہ کاری

کرنیوالی کمپنیوں اور اداروں کو صہیونی ریاست میں سرمایہ کاری واپس لیں کیونکہ اسرائیل میں سرمایہ کاری اسرائیلی فوج کی مدد اور بے گناہ فلسطینیوں کو قید میں ڈالنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔خیال رہے کہ امریکا کی دو جامعات کی طرف سے اسرائیل میں سرمایہ کاری واپس لینے کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف امریکی حکومت اسرائیل کے بائیکاٹ کرنے والی عالمی تحریک’BDS’ کے خلاف انتقامی حربوں اور تنظیم کے خلاف سخت قوانین وضع کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس وقت امریکا میں اسرائیل نواز لابی پوری طاقت کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق دریں اثنابھارت میں کروناوائرس کی عالمی وبا کے باعث اموات کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرکے ایک لاکھ 842 ہوگئی ہے۔یہ بات وفاقی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار میں بتائی گئی ہے۔امریکہ اور برازیل کے بعد بھارت نوول کروناوائرس کے باعث ایک لاکھ اموات والا دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے۔وزارت کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 1ہزار69 افراد انتقال کر گئے ہیں۔جنوب مغربی ریاست مہارشٹرا میں سب سے زیادہ 37ہزار450 اموات ہوئی ہیں اور اس کے بعد جنوبی ریاست تامل ناڈو میں 9ہزار652 جبکہ جنوبی ریاست کرناٹک میں 9ہزار124 اموات ہوئی ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا جس کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں تعلیمی ادارے، مساجد اور عوامی مقامات ایک ہفتے کیلئے بند کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ دارالحکومت تہران میں تھیٹرز، جِم، سیلون، میوزیم اور کیفے بھی بند رہیں گے جبکہ ہر قسم کی سماجی تقاریب پر بھی پابندی ہوگی۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں موجودہ لاک ڈان 9 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ماہرین کی جانب سے تہران میں کورونا کیسز میں 5 گنا اور اموات میں 3 فیصد اضافے کا خدشہ بیان کرنے کے بعد لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں