امریکہ کی یونیورسٹی سے دھکے دے کر کس کو نکالا گیا تھا ؟ (ن) لیگی رہنما عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے اہم رہنما کو مناظرے کا چیلنج دے دیا

امریکہ کی یونیورسٹی سے دھکے دے کر کس کو نکالا گیا تھا ؟ (ن) لیگی رہنما عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے اہم رہنما کو مناظرے کا چیلنج دے دیا

لاہور( ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا ﷲ تارڑ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کو مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز گل مکمل طور پر اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔اپنے بیان میں عطا ﷲ تارڑ نے کہا کہ مریم نواز شریف پر

الزامات لگانے والے اپنے گریبان میں جھانکیں،عمران نیازی کی کابینہ غیر ملکیوں سے بھری پڑی ہے جو پاکستان کے مفاد کیخلاف کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز گل کو مناظرے کا چیلنج کرتا ہوں جو الزامات لگائے گئے ہیں آمنے سامنے بیٹھ کر اپنی مرضی کے چینل پر مناظرہ کر لیں،بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والی سیاسی جماعت کا عنقریب خاتمہ ہونے والا ہے۔ ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف کے پولیٹکل سیکرٹری ذیشان ملک نے کہا ہے کہ شہباز گل کو امریکا کی یونیورسٹی سے نکالا گیا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران نیازی شیشے کے گھر میں بیٹھے ہے ان کیلئے عافیت اسی میں ہے کہ وہ پتھر نہ اچھالیں۔اگر عمران نیازی کی اصلیت ہمیں بتانی پڑی تو پوری قوم شرمندہ ہوگی کہ کیسا آدمی وزیر اعظم ہائوس بیٹھا ہے۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی جلیل شرقپوری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی احتجاجی تحریک کا حصہ بننا انتشار بڑھانے والی بات ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ جو قائد کے بیانیے کے ساتھ نہیں اس کیلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان ارشد وحید چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ( ن) نے ایک بڑ افیصلہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان کو اپنی پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے ، ان پانچ ارکان اسمبلی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی ۔جیو نیوز پروگرام جیو پارلیمنٹ میں میزبان ارشد وحید چوہدری کا اس حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کیا ان اراکین کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم کرائی جاسکتی ہے ۔اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل شرقپوری کاکہنا تھا کہ اگر مجھے اپنے قائد کا کوئی فیصلہ غیر مناسب لگے گا تو میں اس پر اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہوں کیونکہ مجھے لگا کہ اس سے ملک کونقصان ہوسکتا ہے۔ہم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پہلے اعتماد کا ووٹ دیا ہے نہ آئندہ دیں گے‘ میری وزیراعلیٰ سے ملاقات محکمہ اوقاف کے ایک ناجائز نوٹیفکیشن کے سلسلے میں تھی جو حضرت شاہ محمد غوث رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا ۔میں نے میاں نواز شریف کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا یہ کسی نے غلط طور پر پھیلادیا ہے ۔جو کرنا ہے شیر نے کرنا ہے میں نے کچھ نہیں کرنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں