بریکنگ نیوز: عہدوں کی بندربانٹ پر تحریک انصاف کے اندر دراڑ پڑ گئی ۔۔۔ بڑے اختلاف کی اطلاعات

بریکنگ نیوز: عہدوں کی بندربانٹ پر تحریک انصاف کے اندر دراڑ پڑ گئی ۔۔۔ بڑے اختلاف کی اطلاعات

حیدرآباد ( ویب ڈیسک) حیدرآبادمیں حکومتی جماعت پی ٹی آئی میں من پسند افراد کو عہدے دینے پراختلافات سامنے آگئے۔پارٹی کے سینئر رہنماؤں اورکارکنوں کی جانب سے نئے ضلع صدر کی نامزدگی کے خلاف پریس کلب کے سامنے مظاہرہ، پارٹی رہنماعلی جونیجو، ریجنل صدر صداقت جتوئی ودیگر کے خلاف نعرے لگائے گئے

اورمطالبہ کیا گیا کہ نواز پالیسی کو ختم کرکے گورنر ہاؤس سے پارٹی کو چلانا بند کیاجائے ۔حیدرآبادمیں ایک بار پھر حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں پارٹی عہدوں پر من پسند اورقریبی رشتہ داروں کو مقرر کرنے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق پارٹی کے رہنما علی جونیجو کی جانب سے پی ٹی آئی کے ریجنل صدر اورسابق وزیراعلیٰ کے قریبی رشتہ دار کو حیدرآباد کاضلعی صدر نامزد کرنے پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں نے احتجاج شروع کردیاہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی جلیل شرقپوری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی احتجاجی تحریک کا حصہ بننا انتشار بڑھانے والی بات ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)پنجاب کی سیکریٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ جو قائد کے بیانیے کے ساتھ نہیں اس کیلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان ارشد وحید چوہدری سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ( ن) نے ایک بڑ افیصلہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان کو اپنی پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے ، ان پانچ ارکان اسمبلی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی ۔جیو نیوز پروگرام جیو پارلیمنٹ میں میزبان ارشد وحید چوہدری کا اس حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کیا ان اراکین کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم کرائی جاسکتی ہے ۔اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل شرقپوری کاکہنا تھا کہ اگر مجھے اپنے قائد کا کوئی فیصلہ غیر مناسب لگے گا تو میں اس پر اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہوں کیونکہ مجھے لگا کہ اس سے ملک کونقصان ہوسکتا ہے۔ہم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پہلے اعتماد کا ووٹ دیا ہے نہ آئندہ دیں گے‘ میری وزیراعلیٰ سے ملاقات محکمہ اوقاف کے ایک ناجائز نوٹیفکیشن کے سلسلے میں تھی جو حضرت شاہ محمد غوث رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے حوالے سے جاری کیا گیا تھا ۔میں نے میاں نواز شریف کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا یہ کسی نے غلط طور پر پھیلادیا ہے ۔جو کرنا ہے شیر نے کرنا ہے میں نے کچھ نہیں کرنا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں