قیامت کی ایک اور نشانی پوری ۔۔۔ سعودی عرب ،مدینہ میں فحش اداکاروں کو بولڈ شوٹ کی اجازت دے دی گئی ، پوری امت مسلمہ آگ بگولہ

جدہ (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے کہ” ووگ عربیہ” نامی میگزین کو سعودی عرب کے صوبہ المدینہ کے تاریخی مقام “الولا” کے اندر بین الاقوامی سپر ماڈلوں فوٹوشوٹ کی اجازت دے دی ہے۔امریکا کے فیشن میگزین کے عرب ایڈیشن “ووگ عربیہ” نے حال ہی میں نیو یارک

میں فوٹو شوٹ کا پرومو جاری کیا ہے جس میں ماریا کارلا بوسونو ، کینڈیسی سوانپول ، عنبر ویلٹا ، ژاؤ وین اور ایلک جیسی بڑی بڑی ماڈلز شاملہیں جو سعودی عرب کے صوبے مدینہ میں فحش فوٹو شوٹ کریں گی۔ اس پرومو میں ماڈل کو ران سلٹ کے ساتھ انتہائی مختصر لباس پہنے ہوئے دیکھا گیا تھا، لبنانی ڈیزائنر ایلی میزراہی کی جانب سے یہ فوٹو شوٹ کیا گیا۔ اس حوالے سے ایلی میزراہی کا کہنا ہے کہ اس فوٹو شوٹ میں ہر وہ چیز شامل ہے جس سے لوگ اسے ہمیشہ کے لیے یاد رکھیں اور کبھی بھول نہ پائیں، یہاں پر یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جہاں پر اس فوٹو شوٹ کا اہتمام کیا گیا وہ مقدس شہر مدینہ سے تقریباً 300 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، اس فوٹو شوٹ کے سامنے آنے کے بعد عرب ممالک میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے، عرب عوام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی عرب کو ابھی اتنا بھی بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ متنازعہ فوٹوشوٹ بھی انہی تبدیلیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے حالیہ برسوں میں مملکت اپنی معیشت کو بین الاقوامی سیاحت اور جدید طرز عمل کے نفاذ کے لیے کھول رکھا ہے۔ یہ اسی ویژن 2030 کا حصہ ہے جس میں سعودی پولیس کے شرعی اختیارات میں کمی، صنفی ملاوٹ ختم، خواتین کو عبایا پہننے میں چھوٹ وغیرہ شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں