میاں نواز شریف کی حالیہ تقاریر اور ریاستی اداروں کے پیچھے پڑ جانے کی اصل وجہ کیا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

میاں نواز شریف کی حالیہ تقاریر اور ریاستی اداروں کے پیچھے پڑ جانے کی اصل وجہ کیا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستانی سیاست میں حالیہ دنوں میں ایک ایسا سیاسی ارتعاش پیدا ہوا ہے جو کم از کم گذشتہ دو برسوں کے دوران دیکھنے میں نہیں آیا۔پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت تنقیدی بیانیہ سامنے آیا جس کے تانے بانے گزرے ہوئے برسوں کی

سیاست سے جڑے واقعات سے جا کر ملتے ہیں۔نامور صحافی ترہب اصغر کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے 20 ستمبر کو حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس اور دو اکتوبر کو اپنی جماعت کے رہنماؤں سمیت ورکرز سے کیے گئے خطابات میں کچھ ایسے دعوے کیے جن پر مخالف حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے یہ بیانیہ اس لیے اپنایا کیونکہ وہ احتساب کے عمل میں نرمی چاہتے ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے قائد کی طرف سے کیے جانے والے انکشافات اب اس لیے سامنے آ رہے ہیں کیونکہ ناانصافی اور پاکستانی سیاست میں ’پولیٹیکل انجنیئرنگ‘ کا دخل حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ سنہ 2013 میں ہمارے اقتدار میں آتے ہی شروع ہو گیا تھا۔ سیاست میں مداخلت کرنے والے چند طاقتور ملکی اداروں نے عمران کا 2014 کا جلسہ سٹیج کرنے کے بعد یہ سوچ لیا تھا کہ انھیں اگلے الیکشن میں وزیر اعظم لانا ہے۔‘یاد رہے کہ میاں محمد نواز شریف پہلے ہی عمران خان کے سنہ 2014 کے دھرنوں اور ان کی حکومت کو گرانے کی ذمہ داری براہ راست اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الااسلام پر عائد کر چکے ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ 2016 میں سامنے آنے والی ایک خبر جسے ’ڈان لیکس‘ کا نام دیا گیا،اس وقت کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو افشا کرنے کا سبب بنی۔مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید کا بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’سنہ 2016 سے لے کر اب تک ہونے والے واقعات کو دیکھا جائے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ڈان لیکس پر ایکشن لینے کے باوجود بھی نواز شریف کے کسی عمل کو اچھے انداز میں نہیں دیکھا گیا۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس کے بعد ان کے لیے مزید مشکلات بڑھا دی گئیں۔ ان کے خلاف مقدمے چلائے گئے، انھیں عدالت نے دباؤ میں آ کر سزا سنائی، دو مرتبہ قید میں ڈال دیا گیا، انھیں سیاست سے دور کرنے کی کوشش کے علاوہ، ان کی اپنی پارٹی کی صدارت ان سے چھین لی گئی۔ یہی نہیں 2018 کے انتخابات میں جعلسازی سے عمران خان کو لایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں